Saturday, 20 May, 2006, 04:28 GMT 09:28 PST
عراق میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جب کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بغداد کے جنوب میں واقع مصعیب نامی قصبے سے پندرہ لاشیں ملی ہیں جنہیں بظاہر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کیا گیا ہے۔
دو دھماکوں میں سے پہلا دھماکہ بغداد کے علاقے صدر سٹی علاقے میں ہوا جس میں پولیس کے مطابق کم از کم 19 افراد ہلاک اور58 زخمی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بم دھماکہ صدر سٹی کے علاقے میں واقع ایک بس سٹینڈ پر ہوا۔پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد مزدوروں کی تھی جو کام کی تلاش میں وہاں جمع ہو رہے تھے۔ یومیہ اجرت کے لیے کام کرنے والے مزدوروں کو اس سے پہلے بھی دھماکوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
![]() | |
| دھماکے میں زخمی ہونے والی ایک بچی کو امداد دی جا رہی ہے |
اس حملے میں بم بار سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور دس زخمی بتائے جاتے ہیں۔
یہ بم دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب عراقی پارلیمنٹ 2003 میں اتحادی حملے کے بعد وجود میں آنے والی پہلی مکمل کابینہ کی منظوری دینے والی ہے۔
کابینہ میں میں شیعہ، کرد اور سنی پارٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔
مختلف شیعہ گروہوں کی کابینہ پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکامی اور بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں عراق خاہ جنگی کی طرف تو نہیں جا رہا۔