Friday, 19 May, 2006, 11:27 GMT 16:27 PST
فلسطینی پولیس نےغزہ کی سرحد پر حماس کے ایک اہلکار کو آٹھ لاکھ امریکی ڈالروں کے ساتھ گرفتار کر لیا ہے۔
حماس کا اہلکار آٹھ لاکھ ڈالر لے کر مصر کے ساتھ ملنے والی غزہ کی سرحد سے واپس فلسطین آ رہا تھا۔
فلسطین کی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے حماس کی حکومت پر پابندیوں کے بعد بینک کے ذریعے ٹرانسفر کرنا مشکل ہو چکا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے فلسطین اتھارٹی کی مالی پریشانیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
حماس کی انتخابات میں جیت کے بعد اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں کی مدد سے ملنے والی رقم روک دی ہے ۔ اس کے علاوہ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی حماس کی امداد روک رکھی ہے۔
امریکہ اور یورپی یونین کا مطالبہ ہے کہ حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے اور پر تشدد کارروائیوں ختم کرنے کا اعلان کرے۔
حماس کے اہلکار کی گرفتاری کی خبر سن کرحماس کے کئی اسلحہ بردار لوگ موقعہ پر پہنچ گئے۔
غزہ کی سرحد پر یورپی یونین مبصر کے مطابق گرفتار ہونے والا شخص سمیع ابو زوہیری ہے جو حماس کا ترجمان ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی حدود میں آنے والے ہر شخص پر لازم ہے کہ اگر اس کے پاس دو ہزار ڈالر سے زیادہ رقم ہو تو وہ اس کے بارے میں حکام کو بتائے۔
یورپی یونین مبصر کے مطابق سمیع ابو زوہیری نے رقم کو ڈیکلیئر نہیں کیا اور جب پولیس کو اس کا علم ہوا تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق سمیع ابوزوہیری قطر سے فلسطین واپس آ رہے تھے۔امریکہ اور پورپی یونین کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کی امداد بند ہونے کےبعد قطر ان عرب ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے فلسطینی اتھارٹی کی مالی مدد کا اعلان کیا تھا۔