http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 19 May, 2006, 06:35 GMT 11:35 PST

فلسطینی دھڑوں کے بیچ مسلح جھڑپیں

غزہ شہر میں فلسطینی سکیورٹی فورسز کے دو دھڑوں کے درمیان ہونے والی مسلح جھڑپ میں پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ جھڑپ تب ہوئی جب فلسطینی فورسز کے دو دھڑے غزہ کی سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کررہے تھے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس کی جماعت الفتح سے منسلک سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ ان پر حماس حکومت کی جانب سے تعینات کی جانے والی سکیورٹی فورسز نے حملہ کردیا۔ حماس کی نئی حکومت اس الزام سے انکار کرتی رہی ہے کہ اس نے حماس کے کارکنوں کی سکیورٹی فورسز میں تقرری کی ہے۔

حماس نے فلسطینی رہنما محمود عباس کی اس اپیل کو مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے حماس کی حکومت سے کہا تھا کہ نئی فورسز کو وہاں تعینات نہ کرے۔

حماس کے کارکنوں پر مبنی اس سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو بدھ کے روز پہلی بار غزہ میں تعینات کیا گیا۔ حماس سے تعلق رکھنے والے نئے فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ نئی سکیورٹی فورس قانونی ہے اور فلسطینی پولیس اور فلسطینی عوام کی مدد کرے گی۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی قیادت پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ حالات کو سلجھانے کی کوشش کرے۔

فلسطینی دھڑوں کے درمیان تازہ جھڑپیں غزہ میں پارلیمنٹ کی عمارت کے پاس جمعرات کی شب اور جمع کی صبح تک ہوئیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ غزہ میں ہونے والی مسلح جھڑپ کیسے شروع ہوئی لیکن حالیہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔

حال ہی میں غزہ میں دونوں فلسطینی دھڑوں کے درمیان ہونے والی مسلح جھڑپوں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جمعرات کے روز الفتح سے منسلک فلسطینی پولیس کے ہزاروں اہلکاروں نے غزہ کی گلیوں میں مارچ کیا اور فلسطینی صدر محمود عباس کے حق میں نعرے لگائے۔ اطلاعات کے مطابق جب وہ حماس حکومت کی جانب سے تعینات کی جانے والی نئی فورس کے قریب سے گزر رہے تھے، تو سیٹیاں اور تالیاں بجارہے تھے۔