Friday, 19 May, 2006, 12:31 GMT 17:31 PST
ملا داد اللہ افغانستان کے سابق حکمران طالبان کی دس رکنی مجلس شوری کے سب سے نمایاں رکن مانے جاتے ہیں۔
ملا داد اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان رہنما ملا عمر کے ملڑی چیف تھے اور ان کا شمار ملا عمر کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔
ملا داد اللہ اس وقت اخباروں کی شہ سرخیوں میں آئے جب انہوں نے اعلان کیا کہ پیغمبر اسلام کے کارٹون بنانے والوں کو قتل کرنے والے کو ایک سو کلو گرام سونا انعام کے طور پر پیش کریں گے۔
افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کے بارے میں ملا داد اللہ نے کہا تھا کہ’ کافر‘ خود کش حملہ آوروں کا راستہ نہیں روک سکتے اور وہ امریکی اور ان کے حمایتوں کے خلاف اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔
سن دو ہزارایک میں طالبان کی حکومت گرنے کے وقت ملا داد اللہ شمالی افغانستان میں تھے اور قندوز میں ایک ہزار طالبان جنجگجوؤں کے ساتھ گھیرے میں لے لیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق جب ملا داد اللہ شمالی اتحاد کے فوجی دستوں کے گھیرے میں آ گئے تو انہوں اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر رضامندگی ظاہر کی کہ ان کو ساتھیوں سمیت شہر سے باحفاظت نکل جانے دیا جائے۔
کچھ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ملا داد اللہ نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کر دیا لیکن وہ وہاں سے غائب ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
سن دوہزار تین میں سامنے والی اطلاعات کے مطابق ملا داد اللہ کو پاکستان میں دیکھا گیا جہاں وہ افغانستان میں جنگ کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے لوگوں کو قائل کر رہے تھے۔
ملا داد اللہ کا نام ان طالبان رہنماؤں میں شامل تھا جنہیں افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے واپس لانے کے لیے کہا تھا۔
سن دو ہزار تین میں طالبان کے رہمنا ملا عمر نے ملا داد اللہ کو طالبان مجلس شوری میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملا داد اللہ اورزگان علاقے میں طالبان رہنما ہیں۔