Wednesday, 17 May, 2006, 22:28 GMT 03:28 PST
فرانسیسی پارلیمنٹ نے اس متنازع امیگریشن قانون کی منظوری دے دی گئی جس کے تحت غیرہنرمند افراد کی ملک میں آمد اور آبادکاری مشکل ہو جائے گی۔
قانون کے تحت یورپی یونین کے باہر سے آنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو قابلِ تجدید رہائشی اجازت نامے جاری کیئے جائیں گے۔
امیگریشن سے متعلقہ آئینی بِل کو 164 کے مقابلے میں 367 کی اکثریت سے منظور کیا گیا۔
فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی کے مطابق اس بِل کی منظوری سے فرانس ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا جو محدود امیگریشن کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
تاہم بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حزب اختلاف کی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امیگریشن قانون نسل پرستی پر مبنی ہے۔
سوشلسٹ رکن پارلیمنٹ سرگی بِسکو نے الزام لگایا ہے کہ امیگریشن بِل باصلاحیت افراد کی منظم لوٹ کھسوٹ کے مترادف ہے۔
کرسچیئن چرچوں کی کونسل نے بھی حکومت کو لکھے گئے مراسلے میں امیگریشن قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امیگریشن قانون کو اب حتمی منظوری کے لیئے جون میں سینیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔