Tuesday, 16 May, 2006, 06:52 GMT 11:52 PST
فلسطین کے صدر محمود عباس فلسطین کو دی جا نے والے امداد کے بارے میں بات چیت کے لیئے ان دنوں ماسکو کے دورے پر ہیں اور انہوں نے روس کے صدر ولادیمر پیوٹن سے ملاقات کی ہے۔
روس کے تفریحی مقام سوچی میں ملاقات کے دوران عباس نے کہا کہ ماسکو فلسطین کا انتہائی قابل بھروسہ دوست ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور یورپ نے جنوری میں فلسطین کی شدت پسند تنظیم حماس کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اسے فراہم کی جانے والی امداد روک دی تھی۔
اس بارے میں روس کا کہنا ہے کہ فلسطین کو امداد کی فراہمی روکے جانے کا فیصلہ غلط ہے۔ روس کے صدر نے ملاقات کے دوران فلسطینی صدر کو پیشکش کی کہ روس فلسطین کی کس طرح بھرپور مدد کر سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے روس نے فلسطین کو اس کے معاشی بحران سے نکلنے میں مدد دینے کے لیئے دس ملین ڈالر یا پانچ اعشاریہ دو ملین پونڈ کی ہنگامی امداد دی تھی۔
فلسطینی انتظامیہ میں کام کرنے والے ایک لاکھ پینسٹھ ہزار کارکنوں کو دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ محمود عباس نے امید ظاہر کی کہ روس کے اس عمل سے امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین بھی فلسطین کو امداد کی بحالی کا آغاز کر دیں گے۔
امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین فلسطین کی امدادی رقم حماس کی حکومت کی بجائے متبادل طریقوں سے دینے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔
واشنگٹن اور برسلز کے برخلاف ماسکو نے حماس کو ایک دہشت گرد تنظم کے طور پر تسلیم نہیں کیا اور روس کی دعوت پر حماس کے رہنماؤں نے دو ماہ قبل ماسکو کا دورہ کیا تھا۔
علاوہ ازیں محمود عباس نے ایک خطاب میں فلسطینیوں کے جلد از جلد اس صورت حال سے باہر آنے کی امید ظاہر کی تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بصورت دیگر انہیں انتہائی مشکل حالات برداشت کرنے پڑیں گے۔ انہوں نے اسرائیل سے امن مذاکرات کے دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
محمود عباس نے اپنی تقریر میں اسرائیلی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے اور تمہارے بچوں کا محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔ آؤ اور اس سال کو امن کا سال بنا دو‘۔ انکی تقریر براہ راست فلسطین کے ٹیلی وژن اور ریڈیو سے نشر کی جا رہی تھی۔
انہوں نے حماس سے بھی درخواست کی کہ وہ موجودہ معاہدہ امن کی پاسداری کرے۔