Sunday, 14 May, 2006, 03:27 GMT 08:27 PST
نیپالی حکومت کے ایک سینیر رکن کا کہنا ہے کہ جلد ہی پارلیمنٹ میں ایک ایسی ترمیم پیش کی جانے والی ہے جس کے ذریعے بادشاہ کو بڑی حد تک اختیارات اور مراعات سے محروم کر دیا جائے گا۔
نیپال کی نئی حکومت کے وزیرخزانہ رام سرن مہت نے بتایا ہے کہ نیپال میں پارلیمنٹ کے مکمل بااختیار ہونے کااعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی تاہم یہ کہا کہ ان ترامیم ان سات جماعتوں میں زیر بحث ہیں جو حکومتی اتحاد میں شامل ہیں اور اس بحث کے بعد ہی انہیں آخری شکل حاصل ہو گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس تجویز پر بحث جاری ہے کہ شاہی خاندان کو اپنے اثاثوں پر ٹیکس ادا کرنے کا پابند کیا جائے۔
گزشتہ ماہ کے دوران پورے ملک میں کئی ہفتوں تک شدید عوامی مظاہرے ہوئے جنہیں قابو کرنے میں ناکام ہونے پر شاہ گیانیندرہ کو دوبارہ پالیمنٹ بحال کرنا پڑی اور اس اقتدار سے بھی دستبردار ہونا پڑا جو انہوں نے حکومت کو برطرف کر کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔