Sunday, 14 May, 2006, 00:24 GMT 05:24 PST
ایٹمی معاملات پی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران کو یورینیم کی افزودگی کے سے روکنے کے لیے جو پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے وہ جامع اور دلیرانہ ہونی چاہیے۔
برطانوی، فرانسیسی اور جرمن حکام یورپی یونین کی طرف سے ایسی تکنیکی اور تجارتی سہولتوں پر مشتمل ایک ایسی جامع پیشکش پر غور کر رہے ہیں جس کے بدلے ایران کو جوہری پروگرام بند کرن پر آمادہ کیا جا سکے۔
اس پیشکش میں گزشتہ برس اگست میں پیش کی گئی مراعات کے علاوہ مزید مراعات بھی شامل کی جا رہی ہیں۔
ان مراعات میں سیاسی یقین دہانیوں کے علاوہ یورپ کے ساتھ تجارت میں مزید مراعات شامل ہو سکتی ہیں۔ اس پر سلامتی کونسل کے مستقل اراکین آئندہ ہفتے غور کریں گے۔
ایران نے ان اطلاعات پر یہ کہہ کر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے کہ جوہری تحقیق اس کا حق ہے۔
تہران نے یہ کہہ کر مغربی ممالک کے خدشات رد کردیئے ہیں کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور اسے یورینیم کی افزودگی سے نہ روکا جائے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیئے گئے یورپی یونین کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر بین الاقوامی خدشات دور کر دیے جائیں تو یورپی یونین محفوظ اور دیرپا جوہری توانائی کی تیاری میں ایران کی مدد کرے گی‘۔
بی بی سی کے نمائندے جوناتھن چارلس کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری توانائی خود تیار کرنے کی بجائے درآمد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔