Friday, 12 May, 2006, 07:02 GMT 12:02 PST
سری لنکا میں امن کے لیئے بین الاقوامی نگران جمعرات کی سمندری جھڑپ کے بعد تامل باغیوں سے ہنگامی مذاکرات کریں گے۔
سری لنکا کی بحریہ کے مطابق جمعرات کو سمندری حدود میں بحریہ اور تامل باغیوں کے درمیان جھڑپ میں کم سے کم پینتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ
یورپی نگرانوں نے تامل باغیوں کے اس اقدام کو دو ہزار دو کی جنگ بندی کی سخت خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بحریہ کے ترجمان کے مطابق تامل باغیوں کی تقریباً پندرہ کشتیوں نے ایک بڑے بحری جہاز پر حملہ کیا جس پر بحریہ کے سات سو دس اہلکار سوار تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جہاز کے ساتھ چلنے والی بحریہ کی ’فاسٹ اٹیک‘ کشتیوں اور حملہ آوروں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی اور تامل باغیوں نے ایک کشتی پر خود کش حملہ کر دیا۔
ترجمان نے بتایا ہے کہ تباہ ہونے والی اس کشتی میں بحریہ کے کم سے کم پندرہ افراد تھے۔ بحریہ کے مطابق ان کے ان اہلکاروں کے علاوہ باغیوں کے کم سے کم تیس افراد لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم باغیوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں ان کی طرف سے صرف چار افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ باغیوں کے مطابق جارحانہ کارروائی انہوں نے نہیں شروع کی تھی بلکہ بحریہ نے ان کی کشتیوں پر حملہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تامل ٹائگرز کو سمندری حدود پر کوئی حقِ ملکیت نہیں ہے۔ حکومت کے علاوہ کوئی سمندری حدود کو کنٹرول نہیں کر تا، یہ علاقہ حکومت کے ہی کنٹرول میں ہوتا ہے۔‘
امن کے ایک نگران حملے کا نشانہ بننے والے جہاز پر سوار تھے۔ ’سری لنکا مانٹرنگ مِشن‘ کی ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ بہت سنگین ہے کیونک اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پر تشدد کارروائیوں میں اہم اضافہ کیا گیا ہے۔‘
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم امن کی نہیں بلکہ جنگ کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘
اس بحری حملے کے جواب میں سری لنکا کی فضائیہ نے باغیوں کے گڑھ کِلینوچھی کے قریب بمباری کی ۔ سری لنکا میں پُر تشدد واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہے اور پچھلے صرف ایک ماہ میں تقریباً دو سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
باغیوں کے نمائندے دایا ماسٹر کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی فضائیہ نے تامل علاقے پر بمباری کی ہے جس کے جواب میں حکومتی ترجمان نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنا ’عملے کی کی حفاظت کے لیئے ضروری تھا‘۔
سری لنکا میں تامل باغیوں کی جانب سے علیحدگی کی تحریک انیس سو تراسی میں شروع کی گئی تھی جس کے بعد سے اب تک پر تشدد کارروائیں میں ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔