Thursday, 11 May, 2006, 02:42 GMT 07:42 PST
فلسطینیوں کے علاقے میں مالیاتی بحران نے ایک نئی شکل اختیار کی ہے کیونکہ انہیں ایندھن فراہم کرنے والی واحد کمپنی نے کہا ہے کہ وہ گیس اور پیٹرول کی یہ سپلائی کاٹنے والی ہے۔
اطلاعات کے مطابق فلسطینی انتظامیہ نے کافی عرصے سے اس اسرائیلی کمپنی ’ڈور انرجی‘ کے پیسے نہیں دیے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت یہ رقم 26 ملین ڈالر کے قریب ہے۔
فلسطینیو کی ایجنسی برائے پیٹرولیئم کے سربراہ مجاہد سلامہ نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے ہنگامی صورتحال پیدا ہو جائے گی کیونکہ ’فیکٹریوں کو کام روکنا پڑے گا، ٹرانسپورٹ بالکل رک جائے گا اور بیکریاں بند ہو جائیں گی۔‘
انہوں نے بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس امریکی اور یورپی اہلکاروں سے اس سلسے میں بات کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یہ ممالک اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ اس معاشی بحران سے بچا جا سکے۔
غرب اردن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں پر پیٹرول پمپ والوں نے پیٹرول کی راشننگ شروع کر دی ہے۔
فلسطینی انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے مشکلات جنوری میں شروع ہوئے جب حماس نے انتخابات میں فتح حاصل کی۔ اس وقت سے بین الاقوامی امداد رکی ہوئی ہے اور انتظامیہ نے پچھلے دو ماہ سے اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی ہے۔
ایک روز پہلے روس، امریکہ، یورپی یونین اور اقوام محتدہ نے فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے کے ایک طریقہ کار پر اتفاق کیا تھا۔ امریکہ نے صحت اور اطفال کی رفاہی تنظیموں کو دس ملین ڈالر امداد دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔
حماس نے امداد کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے لیکن فلسطینی انتظامیہ کو امداد کے اس پورے عمل میں سے نکالنے کی کوششوں پر تنقید بھی کی ہے۔