Thursday, 11 May, 2006, 11:15 GMT 16:15 PST
مصری دارالحکومت قاہرہ میں ایک مظاہرے کو روکنے کے لیے انسدادِ بلوہ پولیس کے ہزاروں اہلکار شہر کے وسطی حصے کی سڑکوں پر ہیں۔
جج حشام بسطاوصی اور محمود میکی کو انتخابی اور عدالتی اصلاحات کی مہم میں سرفہرست قرار دیا جاتا ہے۔
قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولیس احتجاج کی رپورٹنگ کرنے میں بھی رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
نامہ نگار آئن پانیل کا کہنا ہے جب بھی کوئی صحافی مظاہرین کے قریب رکتا ہے تو پولیس والے اسے جانے کے لیے کہتے ہیں اور بتاتے ہیں نہ تو اس علاقے میں صحافیوں کو رکنے کی اجازت ہے اور نہ ہی وہ اس کی رپورٹ کر سکتے ہیں جو آج سڑکوں پر ہو رہا ہے۔
احتجاج کرنے والوں کی اکثریت شدید ناراض دکھائی دیتی ہے اور کئی جگہ پولیس اور مظاہرین میں گرما گرمی بھی ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ ماضی ایسے لوگوں کو بھی گرفتار کیا یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس طرح کے مظاہروں میں حصہ لے چکے ہیں۔
مظاہرین مسلسل ’منصفو منصفو، ہم کو ظلم سے بچاؤ‘ کے نعرے لگارہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹر کی اطلاع کے مطابق سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والوں نے کئی لوگوں کو ہجوم میں سے گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
رائٹر ہی کی اطلاع کے مطابق پولیس نے عالمی خبر رساں اداروں اور ٹی وی چینلوں کے کیمرہ مینوں کو گرفتار کیا ہے۔
جمعرات کو ججوں کی معاملے کی دوسری سماعت تھی۔ اس معاملے نے حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والوں اور حزب اختلاف کو متحد کر دیا ہے اور ججوں کی حمایت میں معاملے کی پہلی سماعت سے اب تک پچاس افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔