Wednesday, 10 May, 2006, 02:31 GMT 07:31 PST
امریکی صدر جارج ڈبل یو بش نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام پر ایران کے ساتھ جاری جھگڑے کے حل میں سفارتکاری کے استعمال کو ترجیح دی جائے گی، اور یہی ان حالات میں سب سے بہتر طریقہ ہوگا۔
صدر بش نے یہ بات نیو یارک میں سلامتی کوسنل کے ممالک کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس کے بعد کہی جس میں ایران کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وزراء کسی حکمت عملی پر متفق نہیں ہو سکے۔
صدر بش کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری یہ یقین دہانی چاہتی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سفارتکاری ان کی اوّل ترجیح ہوگی کیونکہ بقول انکے ’مجھے یقین ہے کہ اس سے ہم کامیابی حاصل کر سکیں گے۔‘
وزرائے خارجہ کا اجلاس
صدر بش کے بیان سے پہلے سلامتی کونسل ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے معاملے میں کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔ یہ اجلاس تین گھنٹے تک جاری رہا۔
اب برطانیہ، فرانس اور جرمنی تین روز تک اس تجویز پر غور کریں گے جس کے تحت ایران کو تعاون کے بدلے کچھ مفادات دیے جائیں گے نہ صرف سزا کے طور پر پابندیاں ۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس اور چین چاہتے ہیں کہ ایران سے جارحانہ رویہ نہ اختیار کیا جائے بلکہ اسے تعاون سے کوئی فائدہ ہو۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے خط کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا جائے گا۔