Wednesday, 10 May, 2006, 11:47 GMT 16:47 PST
انڈونیشیا کے صدر نے ایران پر بڑھتے عالمی دباؤ کے پس منظر میں تہران کو مذاکرات کاری کی پیشکش کی ہے۔
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد انڈونیشیا کے تین روزہ دورے پر ہیں۔
انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بمبینگ یودھویونو نے مغربی دنیا سے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کاری کی پیشکش اسی دوران کی ہے۔
جکارتہ میں مذاکرات کے بعد انڈونیشیا کے صدر نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ایران کا معاملہ پر امن طور پر حل ہوجائے۔
انڈونیشیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور توانائی کے شعبے میں کئی اہم معاہدے ہیں۔
ایران پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام معطل کردے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیئے ہے۔ تاہم امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکہ کا اصرار ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی ساتویں شق کے مطابق قرار داد منظور کی جائے۔ یہ اقوام متحدہ کے تمام ارکان پر لاگو ہوتی ہے تاہم اس کے تحت فوجی کارروائی یا پابندیاں عائد نہیں کی جاسکتیں۔
ایران کےصدر نےاپنے امریکی صدر جارج بش کو اٹھارہ صفحات پر مشتمل ایک خط تحریر کیا ہے جس میں عالمی مسائل کے حل کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ اس خط میں انہوں نے عراق پر حملے اور اسرائیل کی حمایت جیسے کئی معاملات پر امریکی پالیسی پر تنقید کی ہے اور صدر بش پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی اصولوں کی طرف لوٹ آئیں۔
انڈونیشیا کی پیشکش انڈونیشیا پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ وہ ایران کے معاملے میں مذاکرات کار کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر انڈونیشیا کے حکام ایران پر زیادہ زور نہیں دیں گے کیونکہ وہ اپنے ملک کی مسلمان اقلیت کو ناخوش نہیں کرنا چاہتے۔ |
کہا جارہا ہے کہ محمود احمدی نژاد کے انڈونیشیا کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔ انڈونشیا کے آئل اور گیس کے سیکٹر میں ایران نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔
اس دورے میں کئی معاہدے طے پائے جانے کا امکان ہے جس میں جاوا کے جزیرے پر ایک آئل ریفائنری کا قیام بھی سر فہرست ہے۔
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مزید شفاف ہوجائے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوہری ٹیکنالوجی پر تحقیق ہر ملک کا بنیادی حق ہے۔
انڈونیشیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے میں مذاکرات کار کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر انڈونیشیا کے حکام ایران پر زیادہ زور نہیں دیں گے کیونکہ وہ اپنے ملک کی مسلمان اقلیت کو ناخوش نہیں کرنا چاہتے۔