Monday, 08 May, 2006, 22:35 GMT 03:35 PST
امریکہ نے ایران کے صدر احمدی نژاد کی طرف سے امریکی ہم منصب جارج بش کو لکھے گئے خط کے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس خط سے ایران کے بارے میں دنیا کے خدشات ختم کرنے میں کوئی نہیں ملے گی۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کےصدر محمود احمدی نژاد نےاپنے امریکی ہم منصب جارج بش کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں عالمی مسائل کے حل کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
ایرانی صدر نے یہ خط تہران میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے امریکہ کو بھیجا اور یہ 1979 کے بعد کسی ایرانی صدر کی طرف سے امریکی ہم منصب کے ساتھ پہلی خط و کتابت ہے۔
ایران نے کہا تھا کہ اس خط سے دنیا کےمعاملات کو ٹھیک کرنے میں مدد ملے گی لیکن ایران کے اس خیال کو فوراً مسترد کر دیا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکہ صدر نے خود ایرانی صدر کا خط پڑھا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ صرف خط موصول ہونے کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
ایران کے حکومتی ترجمان غلام حسن الہام کے مطابق اس خط میں بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے اور دنیا کے موجودہ سیاسی حالات اور مسائل کے حل کی نئی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔
تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ اس خط میں ایران کے جوہری تنازعے کا ذکر ہے یا نہیں کیونکہ یہی وہ مسئلہ ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تناؤ کی وجہ ہے۔ امریکہ ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیئے کوشش کرنے کا الزام لگاتا ہے جسے ایران اب تک مسترد کرتا آیا ہے۔
امریکہ نے ایران سے اپنے سفارتی تعلقات 1980 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی عوام کے قبضے اور باون امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد منقطع کر لیئے تھے۔
تہران میں بی بی سی کی نمائندہ فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ چاہے یہ صرف ایک خط ہے لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تین عشروں میں ہونے والا پہلا اعلٰی سطحی رابطہ ہے۔
ایرانی صدر نے اس خط کے ذریعے یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ جوہری تنازعے کے حل کی خاطر امریکی صدر سمیت کسی سے بھی مذاکرات کر سکتے ہیں۔