Monday, 08 May, 2006, 06:32 GMT 11:32 PST
صدر بش کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلے نے اعلان کیا ہے کہ صدر بش نے فضائیہ کے سابق جنرل مائیکل ہیڈن کو سی آئی اے کا نیا سربراہ نامزد کیا ہے۔
سٹیفن ہیڈلے کا کہنا تھا کہ صدر بش کے خیال میں مائیکل ہیڈن سی آئی اے کے مستعفی ہونے والے سربراہ پورٹر گوس کی جگہ لینے کے لیئے موزوں ترین شخص ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سینیٹ بھی ہیڈن کو نئے سربراہ کی تقرری کے لیئے منظور کرلے گی۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کے اراکین نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے پر ایک فوجی جنرل کی تقرری کے خیال پر کڑی تنقید کی ہے۔
امریکی صدر جارج بش نےگزشتہ ہفتے سی آئی اے کے سربراہ پورٹر گوس کے استعفٰی کے بعد امریکی فضائیہ کے جنرل مائیکل ہیڈن کو اس ادارے کا نیا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کا باقاعدہ اعلان آج کیا گیا ہے۔
کانگریس کے ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن قانون سازوں نے بھی ایک فوجی کو’سول‘ ایجنسی کا سربراہ بنانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے سینئر رکن پیٹر ہوئیکسٹرا کا کہنا تھا کہ’میرے خیال میں یہ ایک ناموزوں شخص کو غلط وقت پر غلط عہدہ دینے کا معاملہ ہے‘۔
کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ہوئیکسٹرا نے کہا کہ’ پہلے ہی سی آئی اے اور وزارتِ دفاع کے درمیان تناؤ اور غلط فہمیاں موجود ہیں‘۔
ڈیمو کریٹ سینیٹر جو بڈن نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اس تقرری سے سی آئی اے کے ایجنٹوں کو لگےگا کہ ان کا ادارہ محکمۂ دفاع میں ضم کر دیا گیا ہے‘۔
سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر پیٹرگوس کا استعفٰی خاصا غیر متوقع سمجھا جا رہا تھا۔ انہیں دو برس قبل اس ادارے کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا اور اس ایجنسی کی اصلاح کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
انہوں نے اپنے استعفٰی پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا اور سی این این کو بتایا کہ’یہ بھی بہت سے رازوں میں سے ایک راز ہے‘۔ وائٹ ہاؤس نے بھی میڈیا کی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا کہ پیٹرگوس امریکی صدر کا اعتماد کھو چکے تھے اس لیئے ان سے استعفٰی لیا گیا۔