Saturday, 06 May, 2006, 01:12 GMT 06:12 PST
عراق میں امریکی فوج نے ایسی وڈیو جاری کی ہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عراق میں القاعدہ کے جنگجو رہنما ابو مصعب الزرقاوی ہتھیاروں کا استعمال کرنا بھی نہیں جانتے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ اسی وڈیو کا اصل ہے جس کو بعد میں ٹھیک کر کے ایک ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا۔
امریکی فوج کا ابومصعب الزرقوی کا ٹیپ جاری کرنے کی مقصد یہ ہے کہ ثابت کرنا کہ ابو مصعب الزقاوی تو ہتھیار چلانا بھی نہیں جانتے اور اس کے لیے ان کو اپنے ساتھیوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کو یہ ویڈیو بغداد سے تھوڑا باہر قصبے یوسفیا میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران ملی تھی۔
اس ٹیپ میں ابو مصعب الزقاوی کو ہنستے ہوئے سٹین گن سے ایک ایک گولی چلاتے دیکھایا گیا لیکن ابو مصعب الزقاوی کی ہنسی اس وقت غائب ہو گئی جب سٹین گن رک گئی اور کیمرہ سے اوجھل ان کے ایک ساتھی کو دوسرے سے یہ کہتے سنا گیا کہ جاؤ شیخ کی مدد کرو۔
ابو مصعب الزقاری کے ساتھی نے آگے بڑھ کر سٹین گن تھام لی لیکن گن کے گرم بیرل پر ہاتھ رکھنے پر اس کا ہاتھ جل گیا اور گن زمین پر گر پڑی۔
عراق میں امریکی فوج کے ترجمان میجر جنرل رک لینچ نے ویڈیو جارے کرنے کے بعد کہا:’ ہمارے سامنا ایک جنگجو سے ہے جس کا نام الزرقاوی ہے اور وہ یہ تک نہیں جانتا کہ ہتھیاروں کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے اور اس کو رکے ہوئے ہتھیار کو چلانے کے لیے اپنے ساتھیوں کی مدد لینی پڑتی ہے اور ساتھی بھی ایسے جوگن کے گرم بیرل کو پکڑ کے اپنے آپ کو جلا لیتے ہیں‘۔
القاعدہ کے یہ رہنما عراق میں سب سے زیادہ مطلوب شخصیت ہیں اور ان کو پکڑوانے والے کو پچیس ملین امریکی ڈالر کا انعام دینے کا وعدہ کیا گیاہے۔ ان پر عراق میں حملوں اور امریکی فوج اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے کا الزام ہے۔