Saturday, 06 May, 2006, 13:48 GMT 18:48 PST
ایران کے ایٹمی عزائم پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مغربی ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک قرارداد پر روس اور چین نے سخت تنقید کی ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ قرارداد کے مسودے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس میں ایران اور اقوام متحدہ کے درمیان اعتماد کی بحالی کو اہمیت دی جاسکے۔
چین کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتوں نے یہ قرارداد اقوام متحدہ کے قوانین کو بنیاد بناکر پیش کی ہے جس سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے لیے راستہ کھل جائے گا۔
قرارداد کے مسودے میں ایران سے کہا گیا ہے کہ یورینیم کی افزودگی روکے اور نہ روکنے کی صورت میں اس کے خلاف مزید کارروائیاں کی جاسکتی ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک سنیچر کے روز غیررسمی طور پر ملاقات کررہے ہیں تاکہ قرارداد کے مسودے پر اپنے اختلافات پر غور کرسکیں۔ یہ قرارداد امریکہ کی حمایت سے فرانس اور برطانیہ کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔
روس کے نائب وزیر خارجہ سرگیئی کِسلیاک نے روسی ذرائع ابلاغ کو یہ بتایا ہے کہ قرارداد کے مسودے میں ’بڑی تبدیلیوں‘ کی ضرورت ہے اور مسودے پر بات چیت ’جاری رہے گی‘۔
اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویتالی چُرکِن نے کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر سات کے تحت قرارداد کی منظوری کے خلاف ہے۔ چیپٹر سات کے قوانین کے تحت پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں اور مزید فیصلوں کے بعد فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
چین بھی چیپٹر سات کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔ چین نے مسودے میں ایران سے عالمی امن اور سکیورٹی کو ہتھیاروں کے ’خطرے کے پھیلاؤ‘ جیسے الفاظ شامل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روس اور چین نے مسودے کے اس نکتے پر بھی اعتراض کیا ہے کہ جس میں دوسرے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کو ایسی ٹیکنالوجی نہ فروخت کریں جس سے اس کے ایٹمی پروگرام کی مدد ہوسکتی ہے۔ روس اور چین کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک طرح کی پابندی ہے۔
قرارداد کی حمایت کرنے والے سلامتی کونسل کے اراکین امید کررہے ہیں کہ پیر کو نیویارک میں کونسل کے اجلاس سے قبل مسودے پر اتفاق ہوجائے۔
لیکن بی بی سی کی صحافی لورا ٹریولیان کا کہنا ہے کہ قرارداد پر اتفاق مشکل لگتا ہے کیوں کہ چین اور روس کے پاس ویٹو کا حق حاصل ہے۔
جمعہ کو ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرکے مصنوعی بحران پیدا کرنے کا الزام لگایا۔