Saturday, 06 May, 2006, 04:06 GMT 09:06 PST
امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے گوانتانوموبے کے قید خانے میں قید پانچ چینی مسلمانوں کو رہا کر دیا ہے اور ان باشندوں کو واپس چین بھیجنے کی بجائے البانیہ بھیجا گیا ہے جہاں کی حکومت نے انہیں پناہ دینے کی حامی بھر لی ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والے باشندے واپس چین جانے کے لیے تیار نہ تھے کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ چین کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے ۔ رہا ہونےوالوں کا تعلق چین کے صوبے اوگہر سے ہے جہاں علحیدگی پسند جماعت کو چینی حکومت دہشت گرد جماعت گردانتی ہے۔
رہا ہونے والے پانچ میں سے دو چینی مسلمانوں، ابوبکر قاسم اور عبدو الحکم کو 2001 میں پاکستان سے گرفتار کر کے کیوبا میں واقعہ امریکی جیل خانے میں لایا گیا۔ پچھلے سال امریکہ نے ان دو چینی باشندوں کو چھتیس اور قیدیوں کےہمراہ ’ غیر خطرناک‘ ڈیکلیئر کر دیا تھا۔
امریکہ ان چینی قیدیوں کو اس بنا پر واپس ان کے ملک نہیں بھیج رہا تھا کہ چین واپسی پر ان کو جان کو خطرہ ہو گا اور وہ وہاں پولیس تشدد سے ہلاک بھی ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی کے بعد بھی اب بطی سترہ چینی مسلمان اس کی تحویل میں ہیں۔