امریکہ میں ایک جج نے گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث القاعدہ کے رکن اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے زکریہ موساوی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جس میں رہائی یا ’پے رول‘ کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے سے پہلے زکریہ موساوی نے کہا کہ امریکہ پر خدا کا عذاب نازل ہو اور اسامہ کی خدا حفاظت کرے اور ’تم اس تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔‘
سینتیس سالہ موساوی کولاراڈو کی انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل میں باقی زندگی قید تنہائی میں گزاریں گے۔
فرانسیسی شہریت رکھنے والے موساوی کو بدھ کو ایک جیوری نے موت کی سزا سنائے جانے کی بجائے عمر قید سزا سنانےکی سفارش کی تھی۔
موساوی کی والدہ نے فرانسیسی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ موساوی کو فرانس منتقل کرنے کی بات امریکی حکام سے کریں۔
امریکی اٹارنی جنرل ایلبرٹو گونزالس نے کہا کہ اگر انہیں اس قسم کی کوئی درخواست ملی تو وہ اس پر ضرور غور کریں گے۔
گوانزالس نے عدالت کی طرف سے موساوی کو سنائی جانے والی سزا پر اطمینان
کا اظہار کیا۔
استغاثہ نے ان کے لیئے یہ کہہ کر سزائے موت طلب کی تھی کہ ’ان کے لیئے اس اچھی زمین پر کوئی جگہ نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ عدالت نے انضاف کیا۔
نیویارک کے میئر روڈولف گولیانی نے کہا کہ وہ سزائے موت نہ سنائے جانے پر مایوس ہیں۔