Wednesday, 03 May, 2006, 08:36 GMT 13:36 PST
افغانستان کے مغربی صوبے فراح میں ایک سینیئر جج شیخ محمد کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ صوبے کے گورنر عزت اللہ واصفی نے کہا ہے کہ شیخ محمد کو منگل کی شام نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا ۔
انہوں نے اس قتل کا الزام ’افغانستان کے دشمنوں‘ پر عائد کیا ہے۔ افغانستان میں یہ الفاظ عموماً طالبان یا القاعدہ کے ارکان کے لیئے استعمال کیے جاتے ہیں۔
افغانستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران پرتشدد واقعات میں تیزی آئی ہے اور سڑک کے ساتھ نصب کیے گئے بموں کے دھماکے عام ہیں۔
صوبے کے گورنے کا کہنا ہے کہ جج کی ہلاکت کے بارے میں تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
گورنر کے مطابق جج شیخ محمد مسجد سے گھر واپس آرہے تھے جب دو موٹر سائیکل سواروں نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کرکے انہیں ہلاک کردیا۔
ایک علیحدہ واقعے میں ننگرہار صوبے میں پولیس کے مطابق گورنر کے دفتر کے سامنے ایک کار بم کا دھماکہ ہوا ۔ پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے گورنر نو بجے سے قبل ہی اپنے دفتر پہنچ چکے تھے جس کے باعث وہ اس واقعے میں محفوظ رہے۔
افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں تشدد آمیز کارروائیوں میں شدت آئی ہے جن کا الزام طالبان اور القاعدہ پر عائد کیا جاتا ہے۔
منگل کو دارالحکومت کابل سے باہر ایک خود کش حملہ آور نے بم دھماکہ کیا تھا جس میں حملہ آور کے علاوہ ایک شہری ہلاک ہوا۔ بظاہر اس حملے کا نشانہ امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کا ایک قافلہ تھا تاہم انہیں اس دھماکے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔