Tuesday, 02 May, 2006, 23:42 GMT 04:42 PST
عائشہ تنظیم
بی بی سی، نیو یارک
اقوام متحدہ کے محکمہ اطلاعات کے انڈر سیکرٹری جنرل ششی تھرو نے پاکستان کے علاقے میر والا میں اجتماعی زیادتی کا شکار بننے والی مختار مائی کے متعلق کہا ہے کہ ’انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی بہیمانہ زیادتی کو دنیا میں خواتین کے حقوق کی آواز بنا دیا ہے‘۔
مختار مائی نے اقوام متحدہ کے ادارہ معاشی و سماجی امور اور ورچو فاؤنڈیشن کی دعوت پر نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کا دورہ کیا۔
اقوامِ متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل نے مختار مائی کا تعارف کراتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا اور کہا کہ ان کی کہانی ظلم اور اس پر حاصل کی گئی فتح کی کہانی ہے۔
اس دوران سی این این کی میزبان سولیداد اوبرائن نے مختار مائی کا انٹرویو بھی کیا۔
بعد میں مختار مائی نے سامعین کے سوالات کے جواب دیے۔ خواتین کے حقوق کی تنظیم انا کی ڈاکٹر آمنہ بٹر ان کے لیے مترجم کے فرائض سر انجام دے رہی تھیں۔
مختار مائی کے اس انٹرویو کو سننے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی اہلیہ نین عنان بھی موجود تھیں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی خواتین کے امور کی سب سے اعلی اہلکار یعنی نائب سیکرٹری جنرل فار ایڈوانسمنٹ آف ویمن ریچل میانجا بھی خصوصًا مختار مائی سے ملنے آئیں تھیں۔
![]() | |
| تقریب میں مختار مائی پر بنائی گئی ایک فلم بھی دکھائی گئی |
منگل کے انٹرویو کو اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن نے نہ صرف سپانسر کیا بلکہ مشن کے بیشتر اہلکاروں کے علاوہ نیویارک میں پاکستانی کونسل جنرل شوکت ہارون بھی وہاں موجود تھے۔ پاکستانی مشن کے پریس منسٹر منصور سہیل خاص طور پر مختار مائی سے جا کر ملے اور انہیں بتایا کہ وہ پاکستان کی خواتین کے لیے بہت اہم خدمت سر انجام دے رہی ہیں۔
انٹرویو سے پہلے مختار مائی پر بننے والی ایک فلم کا کچھ حصہ دکھایا گیا۔ مختاراں مائی اس فلم کے دوران ہال سے باہر چلی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم دیکھنا ان کے لیے مشکل ہے اور ان کا زخم کبھی نہیں بھرے گا۔
![]() | |
| مختار مائی اقوام متحدہ کے محکمہ اطلاعات کے انڈر سیکرٹری جنرل ششی تھرو سے بات کرتے ہوئے |
اپنے آدھے گھنٹے کے انٹرویو میں مختار مائی نے بتایا کہ جب سے انہوں نے اپنے علاقے میں سکول کھولے ہیں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے وہاں حالات بہت بدل گئے ہیں۔
’اسی میروالا میں جہاں کسی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ میر والا ہے، اب بجلی ہے، سڑکیں ہیں، سکول ہیں، پولیس چوکی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ چار سال سے وہاں کسی عورت کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی۔ جو شوہروں کی مار پیٹ ہوتی تھی اس میں بھی بہت فرق ہے‘۔
مختار مائی نے اپنے علاقے میں بچوں کے لیے جو سکول کھولے ہیں ان میں وہ خود بھی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ اس بارے میں انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ پانچویں جماعت میں ہیں لیکن انہوں نے کوئی پرچے نہیں دیے۔
میر والا میں مختار مائی کے کھولے سکولوں میں تین سو کے قریب لڑکیاں اور دو سو کے قریب لڑکے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ زیادتی کا شکار خواتین کی مدد کے لیے مختار مائی نے اپنے گھر میں ایک ریپ کرائسس سینٹر بھی بنا رکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں صرف اس لیے کامیاب ہوئی ہے کہ خدا، ان کی والدہ اور پھر پوری دنیا ان کے ساتھ ہے۔