Tuesday, 02 May, 2006, 02:53 GMT 07:53 PST
عائشہ تنظیم
نیو یارک، امریکہ
امریکہ میں تارکین وطن سے متعلق قوانین میں مجوزہ اصلاحات کے خلاف ملک گیراحتجاج میں ہزاروں لوگوں نے حصہ لیا تاکہ وہ یہ بات ثابت کر سکیں کہ تارکینِ وطن کے بغیر ایک دن میں ہی امریکہ کو کتنا بڑا اقتصادی نقصان ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد افراد اس احتجاج کے بارے میں یہ کہتے ہیں:
ایشین گروثری سٹور کے مالک میر پور کے محمد حنیف: ’ہمیں جتنی دیر دکان بند رکھنے کو کہا گیا ہم نے رکھی۔ اگر کہیں گے کہ پورا دن دکان بند رکھو تو ہم پورا دن بند رکھیں گے‘۔
اردو بازار نامی دکان میں کام کرنے والے عارف چوہان جن کا تعلق ملتان سے ہے: ’پانچ چھ سال سے کام کر رہے ہیں، دل چاہتا ہے کہ اپنے وطن آنے جانے کا کوئی سلسلہ ہو، کاغذات ہوں۔ کوشش ہے کہ سوشل سیکورٹی کے لیے اپلائی کریں اور ٹیکس ادا کریں تاکہ پاکستان آنا جانا آسان ہو‘۔
![]() | |
| ہزاروں پاکستانی تارکینِ وطن دوکانوں میں کام کرتے ہیں |
محمد بشیر، 1982 سے امریکہ میں ہیں: ’امریکی ایوان نمائندگان میں جو بل پاس ہوا ہے وہ غلط ہے۔ ہر کوئی جو آتا ہے وہ روزی کمانے، اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے آتا ہے۔ ویسے شوق سے تو کوئی نہیں آتا‘۔
اشفاق احمد، سولہ سال سے امریکہ میں ہیں، مانسہرہ سے ہیں، امریکہ میں کرائے کی گاڑی چلاتے ہیں: ’جو لوگ غیر قانونی ہیں انہیں قانونی کرنا چاہیے۔ اتنی دنیا بیروزگار ہے اس طرح سے انہیں صحیح کام ملے گا اور صحیح جاب آفر ہوں گی‘۔
![]() | |
| تارکینِ وطن نے یک جہتی کے طور پر اپنی دوکانِ بند رکھیں |
سعید گل، چھ سال سے امریکہ میں ہیں، دیسی ڈھابہ نامی ریستوران چلاتے ہیں: ’جو لوگ کسی غیر قانونی کام میں ملوث ہیں انہیں بے شک نکالیں، جو مرضی کریں ان کے ساتھ۔ لیکن جو لوگ محنت کرنے والے ہیں، انہیں کاغذات ضرور ملنے چاہئیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے یہ ملک ترقی کر رہا ہے‘۔