Tuesday, 02 May, 2006, 07:13 GMT 12:13 PST
مالی بحران کا شکار حماس حکومت عرب لیگ کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقوم کو براہِ راست سرکاری ملازمین کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
عرب لیگ کی امداد کو براہِ راست ملازمین کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ بنکوں کو حماس کے ساتھ کاروبار نہ کرنے کی امریکی دھمکی کو بے اثر کرنے کے لیئے کیا گیا ہے۔
عرب لیگ کی جانب سے دیئےگئے فنڈ کی مدد سے دی جانے والی تنخواہیں تاحال ملازمین کو نہیں مل سکی ہیں کیونکہ حکام تنخواہوں کی ادائیگی کی صورت میں امریکی ردعمل سے خوفزدہ ہیں۔
فلسطینی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ حماس حکومت کی وزارتِ خزانہ نے عرب لیگ کو حکومتی ملازمین کے نام اور ان کے بنک اکاؤنٹوں کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔
فلسطینی وزیرِاعظم اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ’ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ہی مالی بحران سے نکل آئیں گے‘۔
امریکہ اور یورپی یونین نے اسرائیل کی تباہی کی کال واپس نہ لینے پر حماس حکومت کی مالی امداد منجمد کر دی تھی اور اس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی ملازمین کو مارچ کے مہینے سے تنخواہ نہیں دی گئی ہے۔
فلسطینی انتظامیہ کے قریباً ایک لاکھ پینسٹھ ہزار ملازمین ہیں اور فلسطینی انتظامیہ ماہانہ ایک سو سولہ ملین ڈالر تنخواہوں کی مد میں ادا کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک جائزے کے مطابق فلسطین کی ایک چوتھائی آبادی کی گزر بسر سرکاری تنخواہوں پر ہوتی ہے۔