Monday, 01 May, 2006, 11:51 GMT 16:51 PST
بچوں کے کھلونوں کی کسی بھی دکان میں جائیں آپ کو بیشتر کھلونے یا تو جاپان کے ساختہ ملیں گے یا ان کا ڈیزائن جاپانی ہو گا۔
جاپان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی آبادی میں اس عمر کے بچوں کا تناسب پہلے سے کہیں کم ہو گیا ہے جنہیں کھیلنے کے لیے کھلونے درکار ہوتے ہیں۔
اسی بات نے کھلونے بنانے والی کمپنیوں کو بڑوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کی قوت خرید بھی زیادہ ہوتی ہے۔
بچوں کے لیے روبوٹ کھلونے بنانےوالی ٹامی نامی کمپنی کے کاروباری کامیابی ہی کو دیکھیں۔ وہ اب ایک ایسی گڑیا بنا رہی ہے جو خواتین اور خاص طور پر ساٹھ سے زائد کی خواتین میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔
باتین کرنے والی یہ گڑیائیں اپنی مالکنوں کا گھر لوٹنے پر خیر مقدم ہی نہیں کرتیں بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلاتی ہیں کہ وہ ان سے کتنے محبت کرتی ہیں۔
ان عورتوں کی بڑی تعداد ان خواتین پر مشتمل ہے جو اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہی ہیں اور تنہا رہتی ہیں۔
ٹامی کمپنی کے یوکو ہیراکاوا کا کہنا ہے کہ ’اکثر عمر رسیدہ خواتین ان گڑیوں کو یہ سوچ کر خریدتی ہیں کہ جیسے وہ ان کی پوتی یا نواسی ہوں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ’آپ ان گڑیوں سے بات کریں۔ وہ آپ کو جواب دیں گی اور آپ کو احساس دلائیں گی کے وہ آپ سے محبت کرتی ہیں اور اگر آپ اسے گود میں لیں گے تو آپ کو یہی محسوس ہو گا کہ جیسے آپ نے سچ مچ کے بچے کو گود میں لیا ہوا ہو۔ ان گڑیوں کا وزن بھی اتنا ہی رکھا گیا ہے جتنا کہ عام طور پع شیر خوار بچوں کا ہوتا ہے‘۔
بظاہر یہ خواتین کے ان جذبات کو تسکین دیتی ہیں جو ان میں اپنے بچوں کے بچوں کے لیے ہوتے ہیں۔