Sunday, 30 April, 2006, 12:28 GMT 17:28 PST
رچرڈ بلیک
بی بی سی نیوز
تابکار ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے سے متعلق برطانوی کمیٹی نے کہا ہے کہ اس مسئلے کا دیرپا حل یہی ہے کہ فضلے کو زیرِ زمین گہرائی میں دفن کر دیا جائے۔
کمیٹی کی رپورٹ میں اس فضلے کو سمندر کی تہہ میں پھینکنے یا پھر سورج کی جانب بھیج دینے کے خیال کو رد کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فضلے کو سخت دھاتی کنٹینروں میں بند کرنے کے بعد زمین کے اندر کئی سو میٹرگہرائی میں دفن کر دیا جائے اور برطانیہ کی ایک تہائی زمین اس قسم کے کام کے لیئے موزوں ہے۔
اس کمیٹی کے سربراہ گورڈن میکیرن کا کہنا تھا کہ’گزشتہ پچاس برس سے برطانیہ بنا یہ سوچے تابکار ایٹمی فضلہ پیدا کر رہا ہے کہ اسے کیسے ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے اور ہم مانیں یا نہ مانیں یہ فضلہ ایک حقیقت ہے اور ہمیں اس کا حل ڈھونڈنا ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ’ کمیٹی کو یقین ہے کہ فضلے کی ارضیاتی تلفی بہترین حل ہے۔ یہ وہ حل ہے جو کہ عوام کی بہتری اور ماحول کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئےنکالا گیا ہے‘۔
مذکورہ کمیٹی تین سالہ تحقیق کے بعد اس نتیجے پر بھی پہنچی ہے کہ زمین کی گہرائی میں تلفی کے انتظامات میں خاصا وقت لگنے کی وجہ سے اس مواد کو فوری طور پر تلف کرنے کے لیئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی مشکلات اور عوام کی جانب سے اس عمل کی اجازت ملنے میں دشواری کی بنا پر تابکار مادے کی تلفی کے مستقل انتظامات میں کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں اس وقت چار لاکھ ستّر ہزار کیوبک میٹر ایٹمی مواد موجود ہے جس میں یورینیم اور پلوٹونیم جیسے انتہائی تابکار مادے بھی شامل ہیں جنہیں تاحال فضلہ قرار نہیں دیا گیا ہے کیونکہ انہیں دوبارہ بطور جوہری ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تابکار ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا عمل
![]() | |