Saturday, 29 April, 2006, 18:11 GMT 23:11 PST
سری لنکا میں قیام امن کے عمل پر نظر رکھنے والے عالمی معائنہ کاروں کی ٹیم نے کہا ہے کہ اس ہفتے کے آغاز پر تامل باغیوں کے ٹھکانوں پر حکومتی فوج کے فضائی حملے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔
ان حملوں کے باعث چالیس ہزار افراد اپنے گھر چھوڑ کر جنگل میں پناہ لینے کے لیئے مجبور ہوگئے تھے۔
معائنہ کاروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ حکومت قانون سے ماورا ہلاکتوں میں ملوث ہوسکتی ہے جبکہ انہوں نے باغیوں کو اپنے ٹھکانے بچوں کے سکولوں اور گھروں کے پاس قائم کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ باغیوں کو حکومتی افواج پر حملے بند کردینا چاہئیں۔
باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملےسری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منگل کو ہونے والے ایک خود کش حملے کے بعد کیے گئے جس میں آٹھ افراد ہلاک اور فوج کے سربراہ شدید زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ بظاہر ایک عورت نے کیا تھا جو اپنے آپ کو حاملہ ٌاہر کررہی تھی۔ تامل ٹائیگرز نے اس حملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔
تامل باغیوں نے ان فضائی حملوں کو نسل کشی سے تعبیر کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے ہزاروں لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں بارہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
سری لنکا میں تشدد کے ان واقعات کے بعد سن دو ہزار دو میں ہونے والی جنگ بندی کے جاری رہنے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
منگل اور بدھ کے بعد حکومت کی طرف سے مزید حملوں کی اطلاعات نہیں ملی۔ تاہم فریقین نے حملوں کی صورت میں جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔
کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ تشدد کی کارروائیوں میں وقفے سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔
قیام امن کے عمل میں شامل اہم رابطہ کار اور ناروے کے عالمی ترقی کے وزیر ایرک سولہائم نے حالیہ دنوں کے واقعات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ
اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ فروری دو ہزار دو میں ہونے والی جنگ بندی متاثر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں فریقین سے رابطے میں ہیں۔
اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی کے ترجمان لنڈن جیفل نے کہا کہ وہ بے گھر ہونے والے افراد کی تصدیق تو نہیں کر سکتے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
تامل ٹائیگروں نے انیس سو ستر کی دہائی میں علیحدہ ملک کے لیے کوششیں شروع کیں۔ اس لڑائی میں اب تک چونسھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔