http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 27 April, 2006, 10:39 GMT 15:39 PST

سری لنکا میں امن کی کوششیں

سری لنکا کے شمال مشرق میں تامل باغیوں پر سری لنکا کی فضائیہ کی طرف سے دو روز کی بمباری سے پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کے لیے قیام امن کے عمل پر نظر رکھنے والی نگرانوں کی عالمی ٹیم اپنے سربراہ سمیت ٹرنکومالی پہنچ رہی ہے۔

فضائی حملےسری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منگل کو ہونے والے ایک خود کش حملے کے بعد کیے گئے جس میں آٹھ افراد ہلاک اور فوج کے سربراہ شدید زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ بظاہر ایک عورت نے کیا ہے۔ تامل ٹائیگرز نے اس حملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

تامل باغیوں نے ان فضائی حملوں کو نسل کشی سے تعبیر کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے ہزاروں لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں بارہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔

سری لنکا میں تشدد کے ان واقعات کے بعد سن دو ہزار دو میں ہونے والی جنگ بندی کے جاری رہنے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

منگل اور بدھ کے بعد حکومت کی طرف سے مزید حملوں کی اطلاعات نہیں ملی۔ تاہم فریقین نے حملوں کی صورت میں جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔

کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ تشدد کی کارروائیوں میں وقفے سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔

قیام امن کے عمل میں شامل اہم رابط کار اور ناروے کے عالمی ترقی کے وزیر ایرک سولہائم نے حالیہ دنوں کے واقعات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ
اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ فروری دو ہزار دو میں ہونے والی جنگ بندی متاثر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں فریقین سے رابطے میں ہیں۔

تامل باغیوں کے مطابق فضائی حملوں کے نتیجے میں چالیس ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی کے ترجمان لنڈن جیفل نے کہا کہ وہ بے گھر ہونے والے افراد کی تصدیق تو نہیں کر سکتے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

تامل ٹائیگروں نے انیس سو ستر کی دہائی میں علیحدہ ملک کے لیے کوششیں شروع کیں۔ اس لڑائی میں اب تک چونسھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔