Thursday, 27 April, 2006, 02:17 GMT 07:17 PST
نیپال میں شاہ گیانیندر کے اس اعلان کے بعد کہ ملک میں جمہوریت بحال کی جارہی ہے ماؤ نواز باغیوں نے بھی تین مہینے تک فائر بندی کا اعلان کردیا ہے اور دارالحکومت کٹھمنڈو سمیت دوسرے شہروں کا محاصرہ اٹھا رہے ہیں۔
لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین پر نظر ثانی کا کام جلد از جلد شروع ہونا چاہۓ۔
ماؤنواز باغیوں کی طرف سے فائر بندی کا اعلان یکطرفہ طور پر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ شاہ گینندرا کا بیان ان کے مطالبات کو پورا نہیں کرتا۔
تاہم بادشاہت کے خلاف ماؤ نواز باغیوں سے ہم آہنگ اپوزیشن جماعتوں نے شاہ گیانندر کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے تین ہفتوں سے زیادہ عرصے تک جاری ہڑتال ختم کر دی تھی۔
باغی جو تقریباً ایک سال سے بغاوت میں مصروف ہیں کہتے ہیں کہ وہ ملک میں نیا آئین دیکھنا چاہتے ہیں۔
ان کے رہنما کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم تین ماہ تک کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے اجتناب کریں گے۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باغیوں کی فائر بندی سے نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ بلا تاخیر نئے آئین کی تحریر نو کرے گی۔
باغی نیا آئین کا مطالبہ اس لیئے کر رہے ہیں تاکہ ملک میں اقتدار پر بادشاہت کی گرفت ختم ہو جائے۔
ماؤ نواز باغیوں کے پاس نیپال کے دیہی علاقے کے ایک وسیع حصے کا اختیار ہے اور انہوں نے دارالحکومت کٹھمنڈو کا محاصرہ اٹھا لیا تھا۔ یہ اقدام انہوں نے گرجا پرشاد کوئرالہ کے مطالبے پر کیا تھا جنہیں اپوزیشن نے نئے وزیرِ اعظم کے طور پر نامزد کیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب نیپال میں زندگی اپنے معمول کی طرف آرہی ہے۔ تاہم کل جب ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین ایک عورت کی ہلاکت پر احتجاج کے لۓ ایک فوجی چھاؤنی کے پاس جمع ہوئے تو پولیس نے گولی چلاکر چھ افراد کو ہلاک اور کم سے کم پچیس کو زخمی کردیا۔