Thursday, 27 April, 2006, 10:59 GMT 15:59 PST
نیپال میں ماؤ نواز باغیوں کی جماعت نےاعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کے روز کٹھمنڈو میں کھلے عام عوامی اجتماع منعقد کریں گے۔
نیپال کی حکومت نے ماؤ نواز باغیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے لیکن خیال کی جاتا ہے کہ نیپال کی نئی حکومت ان پر سے پابندی اٹھا رہی ہے۔
اس سے پہلے ماؤ نواز باغیوں نے یک طرفہ طور پر تین ماہ تک فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔
ماؤ باغیوں کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ کٹھمنڈو میں واقع اوپن ائیر تھیٹر میں اپنا سیاسی اجتماع کریں گے۔یہ وہی جگہ ہے جہاں شاہ کی طرف سے جمہوریت کا اعلان کے بعد عوام نے جشن منایا تھا۔
ماؤ باغیوں کے طرف سے کٹھمنڈو میں سیاسی اجتماع کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔لیکن اپوزیشن کی جماعتوں نے ماؤ باغیوں کی طرف سے فائر بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔.
ماؤ نواز باغیوں نے شاہ گیانندرا کی طرف سے پارلیمنٹ کی بحالی کے فیصلے کے بعد اعلان کیا کہ تین ماہ تک کسی پرتشدد کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے اور انہوں نے کٹھمنڈو جانے والی سڑک پر لگائے گئے ناکے ختم کر دیئے ہیں۔
ادھر نیپال میں امریکہ کے سفیر جیمز موریتی نے کہا ہے کہ ان کا ملک نیپال کی فوجی امداد بحال کرنے کا سوچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نیپال کی فوجی ضرورتوں کا پتہ لگانے کے لیے جلد دورہ کریں گے۔
ماؤ نواز باغیوں کا نیپال کے دیہی علاقے کے ایک وسیع حصے پر کنٹرول ہے۔ انہوں نے دارالحکومت کٹھمنڈو کا محاصرہ گرجا پرشاد کوئرالہ کے مطالبے پر ختم کیا ہے۔
باغی جو تقریباً ایک سال سے بغاوت میں مصروف ہیں کامطالبہ ہے کہ ملک کا نیا نیا آئین بنا چاہیے جس میں بادشاہ کے لیے کوئی کردار نہ ہو۔
![]() | |
| اپوزیشن جماعتوں نے گرجا پرشاد کوئرالہ کو وزیرِ اعظٌم کے طور پر نامزد کیا ہے جنہوں نے باغیوں سے کٹھمنڈو کا محاصرہ اٹھانے کی اپیل کی تھی |
ماؤ نواز باغیوں کے ایک رہنما کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم تین ماہ تک کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے اجتناب کریں گے۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باغیوں کی فائر بندی سے نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ بلا تاخیر نئے آئین کی تحریر نو کرے گی۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب نیپال میں زندگی اپنے معمول کی طرف آرہی ہے۔ تاہم کل جب ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین ایک عورت کی ہلاکت پر احتجاج کے لۓ ایک فوجی چھاؤنی کے پاس جمع ہوئے تو پولیس نے گولی چلاکر چھ افراد کو ہلاک اور کم سے کم پچیس کو زخمی کردیا۔