Thursday, 27 April, 2006, 23:50 GMT 04:50 PST
عراق کے شیعہ فرقے کے اعلیٰ ترین رہنما آیت اللہ سیستانی نے عراق کی نئی حکومت سے تمام مسلح تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آیت اللہ نے کہا کہ صرف سرکاری سکیورٹی فورس کے پاس اسلحہ ہونا چاہیے اور اس سکیورٹی فورس کو قوم کا وفادار ہونا چاہیے۔
بہت سے عراقیوں کا خیال ہے کہ سمارا میں شیعوں کی مسجد پر حملے کے بعد شروع ہونے والی فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں میں مسلح گروہ شامل ہیں۔
عراق کے نامزد وزیر اعظم نے کہا کہ وہ مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔
تاہم نوری المالکی نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آیا ان مسلح گروہوں کو عراقی کی سکیورٹی فورسز میں شامل کرلیا جائے گا یا ان کو کلعدم قرار دے دیا جائے گا۔
نجف میں نورالمالکی سے ایک ملاقات میں آیت اللہ علی سیستانی نے کہا کہ انہیں چلتی گاڑیوں سے فائرنگ، اغوا، بدعنوانی اور بجلی اور پینے کے پانی کی سہولیات کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیں۔
آیت اللہ سیستانی نے نامزد وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ ایسے رہنماؤں کو اپنی کابینہ میں شامل کریں جو قومی مفاد کو اپنے ذاتی اور فرقہ وارنہ مفادات سے اوپر رکھ سکیں۔
نامزد وزیر اعظم کو مئی کے آخر تک اپنی کابینہ میں شامل ہونے والے وزراء کے ناموں کی منظوری کابینہ سے حاصل کرنی ہے۔