Wednesday, 26 April, 2006, 08:13 GMT 13:13 PST
ایک امریکی عدالت نے پاکستانی نژاد امریکی شہری کو پاکستان میں القاعدہ کے تربیتی کیمپ میں شرکت کرکے دہشتگردی کی حمایت کرنے کا قصوروار قرار دیا ہے۔
کیلیفورنیا کی اس عدالت نے تئیس سالہ حامد حیات پر ایف بی آئی سے تین مواقع پر جھوٹ بولنے کا مرتکب پایا۔ عدالت انہیں آئندہ جون میں سزا سنائی جائےگی۔ انہیں 39 سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل ان کے والد عمر حیات کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں عدالت عمر حیات پر ایف بی آئی سے اپنے بیٹے کے متعلق جھوٹ بولنے کے الزامات ثابت نہیں کرسکی۔
حامد کے والد کے خلاف دوبارہ کارروائی کا فیصلہ کرنے کے لیئے وکلائے دفاع اور استغاثہ پانچ مئی کو ملاقات کریں گے۔
کیلیفورنیا میں آئسکریم بیچنے والے عمر حیات اور ان کے بیٹے حامد حیات دونوں کو گزشتہ سال جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔
حامد حیات پر الزام تھا کہ انہوں نے مارچ 2003 اور جون 2005 کے درمیان ایسے اقدامات کیے ہیں جو دہشتگردی کی حمایت میں شمار ہوتے ہیں۔ عدالت میں اسسٹنٹ اٹارنی لورا فیرس کا کہنا تھا کہ حامد حیات پاکستان میں شدت پسندوں کے ساتھ تربیت حاصل کرتے رہے ہیں اور امریکہ میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
لورا کے الفاظ میں حامد ’جہادی دل و دماغ‘ رکھتے ہیں۔
تاہم وکیل دفاع وعظمہ مجددی کا کہنا تھا کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیئے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حامد نے کبھی کسی تربیتی کیمپ میں شرکت نہیں کی۔
مجددی نے مزید کہا کہ حامد سے زبردستی دباؤکے تحت اقرار جرم کروایا گیا ہے۔