Wednesday, 26 April, 2006, 02:41 GMT 07:41 PST
امریکی صدر جارج بش نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لانے کی غرض سے نئے منصوبوں کا افتتاح کیا ہے اور ساتھ ہی تیل کی قیمتیں جمانے کے معاملے میں ایک انکوائری کا حکم دیا ہے۔
صدر بش نے رینیوئیبل فیولز ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں لہذا امریکہ کو تیل پر انحصار کی پالیسی بدلنا ہوگی۔
امریکہ میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ دفاعی اہمیت کے تیل کے ذخائر کو بھرنے کی بجائے تیل کی ملکی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا اورمتبادل ذرائع کو فروغ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تیل اور پیٹرول کی قیمتیں قومی سلامتی کا مسئلہ ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے سامنے اصل مشکل یہ ہے کہ ملکی ضرورت کے تیل کا ساٹھ فیصد بیرونی دنیا سے حاصل کرتا ہے جن میں سے اکثر ممالک میں حکومتیں عدم استحکام کا شکار ہیں اور وہاں کی پالیسیاں امریکہ کے مخالف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب امریکہ کو توانائی کے شعبے میں آزاد ہونے کے لیئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عام صارفین پیٹرول کی زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی اوپر چڑھتی ہوئی قیمتیں ایک ایسا چھپا ہوا ٹیکس ہے جس سے عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے فیڈرل ٹیکس کمیشن سے کہا ہے کہ وہ انکوائری کرے کہ کہیں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے مارکیٹ کی کارستانی تو نہیں۔