Tuesday, 25 April, 2006, 08:49 GMT 13:49 PST
مصر کےسیاحتی مرکز میں دھماکے کے شبہ میں آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس دھماکہ میں تیئس لوگ ہلاک اور باسٹھ افراذ زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے پہلےمصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ دھب کے سیاحتی مرکز میں دھماکے دہشت گردوں کی کارروائی ہے اور ذمہ داروں کا جلد پتا چلا لیا جائے گا۔
مصری کے سکیورٹی اداروں نے واقعہ کی تحیقات شروع کر دی ہیں۔ دھماکے میں تیئیس لوگ ہلاک اور باسٹھ کے قریب زخمی ہو گئے۔ہلاک ہونے والوں میں سے بیس کا تعلق مصر سے جبکہ ان میں تین غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
مصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا کہ دھماکے دہشت گردوں کی کارروائی ہے اور ذمہ داروں کا جلد پتا چلا لیا جائے گا۔
امریکی صدر جارج بش نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کے خلاف یہ گھناونی کارروائی ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ نے حماس کی طرف سے دھماکوں کی مذمت کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اہم نقطہ ہے۔
دھب علاقہ سیاحوں کا مرکز ہے۔ جہاں یہ دھماکے ہوئے وہاں کئی ہوٹل اور ریستوران ہیں۔ اس علاقے میں عام طور پر اسرائیلی سیاح زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔
دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب مصر میں موسمِ بہار کی آمد پر چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا اور یہودیوں کے تہوار پاس اوور جسے عیدِ نجات بھی کہتے ہیں کا اختتام ہو رہا تھا۔
عینی شاہدوں نے جن کے چہروں پر زخموں اور کپڑوں پر خون کے نشان تھے بتایا کہ یہ دھماکے ساحل سے متصل سب سے بڑی مارکیٹ میں ہوئے۔
زخمیوں کو شرم الشیخ اور دیگر ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے اور دھب کے اردگرد پولیس نے چیک پوائنٹس لگا دیئے ہیں اور شہر میں تقریباً کرفیو کا سا سماں ہے۔ غیر ملکی سیاح صدمے کے باعث اپنے اپنے ہوٹلوں میں واپس جا چکے ہیں اور دھب کا عالم یہ ہے کہ وہاں مکل خاموشی اور تاریکی ہے۔
گزشتہ برس جولائی میں مصر ہی کے ایک سیاحتی مقام شرم الشیخ میں بم دھماکے ہوئے تھے جن میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہاں مرنے والوں میں زیادہ تر سیاح تھے۔ دو برس قبل طوبہ کے سیاحتی مرکز میں دھماکوں سے تیس افراد مارے گئے تھے۔
![]() | |
| عالمی سطح پر مصر میں ہونے والے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے |
قاہرہ میں اسرائیل کے سفیر نے اسرائیلیوں پر زور دیا ہے کہ وہ سینائی سے فوراً چلے جائیں۔ چناچنہ شام کے وقت اسرائیلی گاڑیاں اپنی سرحد کی طرف جاتی دکھائی بھی دیں۔
مصر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں استعمال ہونے والے مواد کے ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملکی ساخت کا تھا۔