Sunday, 23 April, 2006, 20:38 GMT 01:38 PST
نیپال میں شاہ مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو ملک میں بادشاہ کے خلاف ایک اور مظاہرہ کیا جائے گا جس میں اسے توقع ہے کہ پانچ لاکھ افراد شریک ہوں گے۔
اتوار کی رات ہونے والے اس اعلان سے پہلے نیپالی پولیس نے شاہ مخالف ان مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں چلائی تھیں جو کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دارالحکومت کٹھمنڈو کے مرکز تک پہنچنا چاہتے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کو ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین شاہ گیانندرا کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شہر کے وسط تک جانے کے خواہش مند تھے۔ تاہم سکیورٹی کی ذمہ دار ایجنسیوں نے گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کردیں اور شہر کے وسط کی طرف جانے والے راستے روک دیئے۔
اتوار کو مظاہرین کی تعداد ہفتے کے مقابلے میں نسبتاً کم تھی۔ ہفتے کو تقریباً ایک لاکھ افراد نے سڑکوں پر نکل کر شاہ گیانندرا کے اقتدار کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔
کٹھمنڈو کے کچھ اضلاع میں اتوار کو گڑبڑ اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن مختلف علاقوں میں ہسپتال کے ذرائع کے مطابق جھڑپوں سے پینتیس افراد زخمی ہوگئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ اتوار کو مظاہرین کے کم ہونے کی وجوہات میں ایک یہ تھی کہ حکومت نے موبائل فون کے نظام کو ناکارہ بنا دیا تھا جس سے اپوزیشن کے رہنما کارکنوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے متحرک نہ کر سکے۔ دوسری وجہ یہ تھے کہ چار دن سے دن کے وقت کرفیو کے نفاذ اور اس کی خلاف ورزی کرتے کرتے مظاہرین کچھ تھک سے گئے تھے۔
پھر بھی اتوار کو کٹھمنڈو کے شمال مغربی علاقے میں سب سے بڑا مظاہرہ ہوا جہاں پولیس نے بیس سے تیس ہزار کے قریب مظاہرین کو لاٹھی چارج کرکے روکا۔
شام کے وقت جھڑپوں کے بعد کئی مقامات پر مظاہرین نے ٹائر جلائے جس کی وجہ سے فضا دھوئیں سے آلودہ رہی۔
اتوار کی صبح سے نیپالی حکام نے کٹھمنڈو میں پھر سے دن بھر کا کرفیو نافذ کر دیا تھا اور شہر کے مرکزی علاقے کو جانے والے تمام راستوں کو خاردار تار لگا کر بند کر دیا تھا۔
سنیچر کو ایک لاکھ سے زائد مظاہرین نے دارالحکومت کے مرکز میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بادشاہت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔یہ مظاہرین’ ہم بادشاہت نہیں جمہوریت چاہتے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ادھر سیاسی اپوزیشن نے شاہ گیانندرا کی جانب سے ایک کثیرالجماعتی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔