Sunday, 23 April, 2006, 08:56 GMT 13:56 PST
اقوام متحدہ کی طرف سے ایٹمی پروگرام روکنے کی مہلت ختم ہونے سے چند روز پہلے ایران نے کہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام اٹل ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا ہے کہ ان کا ملک یورینیم کی افزودگی، ایٹمی شعبے میں تحقیق اور ترقی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایران نے اسی مہینے اعلان کیا تھا کہ اس نے پہلی بار یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اس کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ مغربی دنیا کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے جبکہ ایران اس بات کی تردید کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اس مہینے کے آخر تک یورینیم کی افزودگی بند کر دے۔ اس کے علاوہ ایٹمی معاملات پر نظر رکھنے والا عالمی ادارہ آئی اے ای اے اس سوال پر اپنی رپورٹ پیش کرنے والا ہے کہ آیا ایران نے اقوام متحدہ کی بات مانی کہ نہیں؟
ترجمان نے کہا کہ ’اگر رپورٹ میں ماہرانہ تجزیہ پیش کیا گیا تو پھر پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ بصورت دیگر اگر رپورٹ میں ایران پر دباؤ ڈالنے کی بات کی گئی تو ایران اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور وہ ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے‘۔
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔