Sunday, 23 April, 2006, 18:50 GMT 23:50 PST
فلسطین کی حماس حکومت نے خود کو اسامہ بن لادن کی اس تنقید سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے جو ان کے اس نئے ٹیپ کے ذریعے مغربی ملکوں پر کی گئی۔ عربی ٹیلی ویزن الجزیرہ نے اس ٹیپ کو اسامہ بن لادن کا قرار دے کر نشر کیا ہے۔
حماس کے ترجمان سمیع ابو ظہوری نے کہا ہے کہ حماس حکومت مغربی ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’حماس کا القاعدہ کے نظریے سے باکل مختلف ہے‘۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض مغربی ملکوں کی پالیسیاں کشیدگی کو ہوا دینے والی ہیں۔
اسامہ بن لادن نے اس ٹیپ کے دریعے جاری کیے جانے والے پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے بعد یورپی برادری کی طرف سے حماس کی مالی امداد روکنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ اور یورپ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں برابر کےشریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے فنڈ روکنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کی صلیبی جنگ جاری ہے۔
القاعدہ کے رہنما کو نیا ٹیپ تین ماہ کے بعد جاری ہوا ہے اس سے قبل انیس جنوری کو ان کا ایک ٹیپ نشر کیا گیا تھا۔ اس نئے پیغام میں انہوں نے کہا کہ مغرب کے لوگ اور حکومتیں اس یہودی صلیبی جنگ کے یکساں طور پر ذمہ دار ہیں۔