http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 22 April, 2006, 02:39 GMT 07:39 PST

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کٹھمنڈو

کھٹمنڈو میں شاہی محل کا گھیراؤ

نیپال میں شاہ گیانندرا کے مخالفین کا ایک بڑا ہجوم شاہی محل کے گرد جمع ہو رہا ہے جہاں پولیس کی بھاری نفری ان کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس دوران بہت سے لوگ زخمی ہو چکے ہیں جنہیں امدادی کارکن ہسپتال پہنچا رہے ہیں۔ مشتعل مظاہرین محل میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور صورتحال سنگین رخ اختیار کر رہی ہے۔

اس سے قبل ہفتے کی صبح ہزاروں مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھٹمنڈو کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ یہ مظاہرین’ ہم بادشاہت نہیں جمہوریت چاہتے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

نیپال – تحریک اب عوام کے ہاتھ میں

نیپال میں جمہوریت نواز مظاہرے

نیپال کی صورت حال پر رائے دینے کے لیے کلک کریں

نیپال کے مظاہرین

پاکستانیوں کے دل ضرور دھڑکتے ہوں گے

اس سے قبل نیپال میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے انہیں حکومت میں شامل کرنے کی ملک کے بادشاہ شاہ گیانندرا کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ شاہ گیانندرا نے دو ہفتوں سے جاری بادشاہت مخالف مظاہروں کے ردعمل میں یہ پیشکش کی تھی۔

سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد میں شامل اہم جماعت نیپالی کانگریس نے کہا کہ شاہ گیانندرا نے اپنی پیشکش کرتے وقت ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا ہے۔ مظاہرین نے بھی ملک کے بادشاہ کی پیشکش پر کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا۔

جمہوریت نواز مظاہروں پر بائیں بازو کے ماؤنواز باغیوں کا اثر و رسوخ ہے اور حزب اختلاف کی جماعت کے ایک کارکن نے کہا کہ وہ آئینی حقوق کی خاطر بادشاہ کے پاس نہیں جانا چاہتے۔

جمعہ کے روز قوم سے خطاب میں شاہ گیانندر نے کہا تھا کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے کسی رہنما کو نامزد کریں۔ انہوں نے ملک میں انتخابات کا اعلان نہیں کیا۔

کٹھمنڈو اور دیگر نیپالی شہروں میں دو ہفتوں سے جمہوریت نواز مظاہرے جاری ہیں اور شاہ گیانندرا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس دوران کم سے کم چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اپنے خطاب میں نیپالی بادشاہ نے کہا: ’نیپالی بادشاہت کی ایکزیکیٹِو پاور جو ہمارے تحظ میں تھی، آج سے عوام کو منتقل ہوجائے گی۔‘

نیپالی کانگریس کے ترجمان کرشنا پرساد ستولا نے کہا کہ مظاہرے جاری رہیں گے کیوں کہ بادشاہ نے مظاہرین کی تحریک کے روڈمیپ کا خیال نہیں رکھا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے رہنما سبھاش نیومانگ نے کہا کہ شاہ گیانندرا کا خطاب ’بادشاہ کی جانب سے عوام کو بیوقوف بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔‘

دارالحکومت کٹھمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر شاہ گیانندرا نے یہ سمجھا تھا کہ ان کے خطاب سے دو ہفتوں سے جاری جمہوریت حامی تحریک ختم ہوجائےگی تو یقیناً انہیں عوام کے جذبات کا صحیح اندازہ نہیں تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جمہوریت حامی تحریک نے گزشتہ چند دنوں میں بادشاہت مخالف شکل اختیار کرلی ہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے کہا کہ ملک کے بادشاہ نے ان کے کئی اہم مطالبات پر کوئی بات ہی نہیں کی۔ ان جماعتوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہ گیانندرا ایک اسمبلی نامزد کریں جو ملک میں بادشاہت کے مستقبل پر غور کرے گی۔