Saturday, 22 April, 2006, 03:16 GMT 08:16 PST
امریکہ نے ایران کے ایٹمی تنازعے پر اپنی وارننگ میں سختی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایرانی حکومت ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
سینیئر امریکی سفارت کار نِکلس برنز نے حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ حالات کی نازکی کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس تنازعے کے حل کے لیے مزید کچھ کریں۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر اقوام متحدہ نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے سے متعلق ایک قرارداد پر اتفاق نہیں کیا تو امریکہ اقوام متحدہ کو نظر انداز کرسکتا ہے۔
انٹرنیشنل ایٹامِک اینرجی ایجنسی میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے یہ بات دہرائی ہے کہ ایرانی حکومت کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اسی ماہ کہا تھا کہ ایران نے پہلی بار یورینیم کی افزودگی کرلی ہے جسے ایٹمی ہتھیار بنانے کی جانب اہم تکنیکی قدم سمجھا جاتا ہے۔
دریں اثناء امریکہ نے روس سے کہا ہے کہ وہ ایران کو میزائل فروخت کرنے کی کوشش اس وقت تک نہ کرے جب تک ایٹمی تنازعہ جاری ہے۔ روس نے ایران سے ایک سمجھوتہ کیا ہے جس کے تحت سات سو ملین ڈالر کے میزائل وہ ایران کو فروخت کرے گا۔
امریکہ نے چین سے بھی کہا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے دفاعی فروخت پر نظر ثانی کرے۔ انڈر سیکرٹری نکلس برنز نے کہا: ’کئی ممالک ایسے ہیں جو کثیرالمقاصد ٹیکنالوجی فروخت کرتے ہیں اور امریکہ کا موقف ہے کہ اسے روکنے کی ضرورت ہے۔‘
چین اور روس اقوام متحدہ کے ذریعے ایران پر پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کی مخالفت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا موقف یہ ہے کہ ابھی تک ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ ایران ایٹمی بنارہا ہے اور نہ ہی ایران نے ایسا ثابت کیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنارہا ہے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی کی اس رپورٹ کا انتظار کررہی ہے جو ایران کے ایٹمی تنازعے کے بارے میں وہ اگلے ہفتے کونسل میں داخل کریں گے۔