Saturday, 22 April, 2006, 15:09 GMT 20:09 PST
سی آئی اے کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ ادارے نے اپنے ملازم کو ذرائع ابلاغ کو راز بتانے کے الزام میں برطرف کر دیا ہے۔
امریکہ میں ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں نے برطرف ہونے والی اہلکار کا نام میری مکارتھی بتایا ہے جو سابق صدر بِل کلنٹن اور صدر جارج بُش کے ساتھ خصوصی مشیر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔
سی آئی اے نے نام کی تصدیق کرنے سے انکار کیا لیکن اس نے بتایا کہ برطرف کئے جانے والے اہلکار نے راز بتانے کے الزام کا اعتراف کیا ہے۔
سی آئی اے نے کہا کہ اس اہلکار کو تین ماہ کی تفتیش کے بعد برطرف کیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق میری مکارتھی آخری وقت انسپکٹر کے عہدے پر تعینات تھیں اور عراقی جیل میں قیدیوں کے خلاف زیادتی کے الزامات کی تفتیش کر رہی تھیں۔
گزشتہ نومبر میں سی آئی اے ان الزامات سے ہل گئی تھی کہ امریکہ نے ’دہشت گردی‘ کے ملزمان کو مختلف ممالک میں خفیہ جیلوں میں رکھا ہوا ہے۔ امریکہ نے کبھی ان الزامات کی تصدیق نہیں کی۔
سی آئی اے کے ایک ناظم پورٹر گراس نے فروری میں امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ان خبروں کے ذرائع کا پتہ چلانے کے لیے وسیع تر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’اپنا مشن مکمل کرنے کی ہماری صلاحیتوں کو سخت نقصان پہنچا ہے‘۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کے مطابق امریکی خفیہ ادارے حال ہی میں ایسے باتوں کے سامنے پر سخت سیخ پا ہیں جنہیں وہ خفیہ رکھنا چاہتے تھے۔