Friday, 21 April, 2006, 02:40 GMT 07:40 PST
نیپال میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کٹھمنڈو میں جمعہ کے روز بڑے پیمانے پر عوامی ریلی کی اپیل کی ہے تاکہ شاہ گیانندرا پر اقتدار سے دستبردار ہونے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ دو ہفتوں سے جاری رہنے والی ان کی ہڑتال غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گی۔
اپوزیشن کے اس فیصلے کے بعد نیپال کی حکومت نے دارالحکومت کٹھمنڈو میں جمعہ کو دن بھر کے لیے پھر سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے جمعرات کو مظاہرین پر فائرنگ کی جو کرفیو کی خلاف ورزی میں سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ پولیس کی اس فائرنگ میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف ’سکیورٹی فورسز کے ارکان کی جانب سے طاقت کے مہلک استعمال‘ کی مذمت کی ہے۔
جمہوریت حامی مظاہرین پر بائیں بازوں کے ماؤنواز باغی اثر انداز ہیں اور حکومت ان پر مظاہروں میں ماؤنواز باغیوں پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز کٹھمنڈو کے رِنگ روڈ پر مظاہروں کے لیے نکل آئیں۔
دارالحکومت کٹھمنڈو کی سڑکیں گزشتہ دو ہفتوں سے سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد کی جانب سے مظاہروں اور قومی ہڑتال کی گرفت میں رہی ہیں۔ جمعرات کو تین افراد کی ہلاکتیں اس وقت پیش آئیں جب ’دیکھتے ہی گولی مارکر ہلاک کردینے‘ کا حکم نافذ تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات سے قبل دو ہفتوں کے مظاہروں میں دس افراد پہلے ہی ہلاک ہوچکے ہیں۔
کٹھمنڈو میں جمعہ کے روز کرفیو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سے شروع ہوگا اور شام کے آٹھ بجے تک جاری رہے گا۔ لیکن اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کی ہڑتال غیرمعینہ مدت تک چلتی رہے گی۔ ایک اندازے کے مطابق نیپالی دارالحکومت میں ہونے والے مظاہروں میں ایک لاکھ سے زائد افراد شرکت کرتے رہے ہیں۔
کٹھمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے ملک کے بادشاہ کے خلاف بڑے پیمانے پر غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ شاہ گیانندرا نے دوہزار ایک میں غیرمعمولی حالات میں ملک کا باگ ڈور سنبھالا تھا جب اس وقت کے بادشاہ سمیت ان کے تمام اہم رشتہ دار محل میں مارے گئےتھے۔
نیپال کمیونسٹ پارٹی (یونائیٹیڈ مارکسٹ لیننسٹ) کے ایک رہنماشنکر پوکھرل کا کہنا تھاکہ ’اگر اس دیش میں جمہوری حکومت ہوتی تواب تک جنتا کی آواز اس تک پہنچ جاتی لیکن یہ سرکار چونکہ ایک تانا شاہ سرکار ہے اس لیے وہ اس آواز کو ان سنا کر رہی ہے۔‘
نیپالی کانگریس پارٹی کے رہنما نوین راج جوشی نے کہا ہے کہ ’سبھی جماعتوں کا اب صرف ایک ہی نصب العین ہے اور وہ ہے جمہوریت کا قیام، اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘ انہوں نے کہا’عوام یہ چاہتے ہیں کہ اب ایک ایسا جمہوری نظام قائم ہوجسے کوئی ہلا نہ سکے۔‘