Thursday, 20 April, 2006, 12:08 GMT 17:08 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کھٹمنڈو
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جہاں جمہوریت کے لیے چلائی جانے والی تحریک زوروں پر ہے، وہاں ہرطرف پولیس اور فوج نظر آتی ہے۔
دو پہر تک شہر کے مختلف رہائشی علاقوں میں مظاہرے شروع ہوگئے۔فوج اور پولیس مظاہرین کو آگے نہیں بڑھنے دے رہی تھی۔
سختی کا یہ عالم ہے کہ صحافیوں کو بھی خبروں کی کوریج کے لیے پاس نہیں جاری کیۓ گئے ہیں۔ ہمیں کئی مقامات پر فوج نے روکا لیکن کسی طرح ہم گنگا ہو اور سما کوشی کے علاقوں تک جانے میں کامیاب ہوگئے۔
وہاں مظاہرین بڑی تعداد میں کرفیو کی خلاف ورزی کر تے ہوئے جمہوریت کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس نے انھیں روک رکھا تھا۔
چابیل اور کیرتی پور کے علاقوں میں ہزاروں جمہوریت نوازوں نے مظاہرے کۓ۔ ان کے ہاتھوں میں پرچم تھے اور شاہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
جلوس میں بیشتر جوان شامل تھے۔بائیس سالہ راجیو لامہ کا کہنا ہے تھا کہ " ہم اب صرف جمہوریت چاہتے ہیں۔ اب ہم کسی کی ڈکٹیٹرشپ برداشت نہیں کریں گے‘۔
سدرشن ریمال کاکہنا تھا کہ ’ نیپال کے عوام گزشتہ پندرہ دنوں سے پر امن مظاہرے کر رہے ہیں لیکن حکومت نے اس کے باوجود کرفیو نافذ کیا ہے‘۔
آج صبح ہندوستان کے خصوصی ایلچی کرن سنگھ نے شاہ گیانیندر سے ملاقات کی ہے۔ نیپال کے عوام اس معاملے میں کسی کی ثالثی نہیں چاہتے ہیں۔
ونود تمینا کا کہنا تھا کہ ہندوستان نیپال کے معاملے مداخلت نہ کر ے۔’ ہم ایک ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جس کے ما لک صرف عوام ہوں‘۔
کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر دیکھتے ہی گولی مارنے اور جیل کی سزا کے اعلان کے باوجود ہزاروں افراد نے جمہوریت کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔ بعض علاقوں میں تشدد کی خبریں مل رہی ہیں۔
کٹھمنڈو کی فضا میں کشیدگی ہے۔ لیکن اس فضا میں بادشاہت کے خلاف عوام کی ناراضگی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
جمہوریت نواز سات جماعتوں کے اتحاد نے آج محل کی طرف مارچ کا نعرہ دیا تھا۔ وہ محل کی طرف تو آج مارچ نہیں کر سکے لیکن یہاں کے عوام کے جذبوں سے لگتا ہے کہ آج کا مظاہرہ اس طویل مارچ کا آغاز ضرور ہے۔