http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 19 April, 2006, 06:27 GMT 11:27 PST

جل میگورنگ
بی بی سی نیوز

پیوند کاری کیلئے قیدیوں کے اعضاء

پیوندکاری کے ماہر برطانوی سرجنوں نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ موت کی سزا پانے والے ہزاروں قیدیوں کے اعضاء پیوندکاری کے لیئے ہر سال بیچتا ہے۔

بدھ کو جاری کیئے گئے ایک بیان میں برٹش ٹرانسپلانٹ سوسائٹی نے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی چینی حکام نے عوامی طور پر ان الزامات کی تردید کی ہے۔مارچ میں چین نے کہا تھا کہ وہ جولائی سے انسانی اعضا کی فروخت بند کردے گا۔

برٹش ٹرانسپلانٹ سوسائٹی نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کی سزا پانے والے ہزاروں قیدیوں کے اعضاء ان کی مرضی کے بغیر نکال لیئے جاتے ہیں۔

سوسائٹی کے پروفیسر سٹیفن وگمور نے بتایا ہے کہ جن مریضوں کو پیوندکاری کی ضرورت ہوتی ہے ان کے ٹشو عطیہ کرنے والے کے ٹشو سے میچ کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اور چین میں جس رفتار سے میچنگ ٹشو والے افراد مل جاتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیدوں کو سزائے موت کے لیئے چنا جاتا ہے۔ یعنی جس قیدی کے ٹشو مریض سے مل جائیں اسے پہلے سزائے موت دے دی جاتی ہے۔

گزشتہ ہفتے چین کے شعبہ صحت کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ کبھی کبھار قیدیوں کے اعضاء استعمال کیئے جاتے ہیں مگر اس میں ان کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ تاہم حکام پر الزامات کا سلسلہ گزشتہ سات سال سے جاری ہے۔

پروفیسر وگمور کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس عمل کے خلاف اقدامات کیئے جائیں۔ پیوندکاری کے لیئے دیگر ملکوں سے آنے والے سیاحوں کی دلچسپی کے باعث اب انسانی اعضاء کا کاروبار مزید منافع بخش ہوتا جارہا ہے۔ برطانیہ ، جاپان اور کوریا سے ایسے بے شمار مریض چین آتے ہیں جنہیں پیوندکاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

چین میں سزائے موت کے عمل کو جس قدر خفیہ رکھا جاتا ہے اس سے حقائق تک پہنچنا مشکل کام ہے۔

چینی حکام نے حال ہی میں ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جس سے پیوندکاری کے قوائد و ضوابط سخت ہوجائیں گے۔ پیوندکاری کے لیئے عطیہ دینے والے کی تحریری طور پر مرضی حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

تاہم اعضاء کا کاروبار منافع بخش ہے اور کئی کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کے فعال ہونے کا انحصار اس امر پر ہے کہ انہیں کس طرح لاگو کیا جاتا ہے۔