Tuesday, 18 April, 2006, 04:05 GMT 09:05 PST
امریکہ کی ایک عدالت میں زکریا موساوی کے مقدمے کی جیوری کو ایک کلینیکل سوشل ورکر نے بتایا کہ فرانس میں زکریا موساوی شیزوفرینیا کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہیں اور ان کا بچپن بہت برا گزرا۔
پیر کے روز وکیل صفائی کی جانب سے پیش کی گئی یہ پہلی گواہی تھی اور ان شہادتوں کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ زکریا موساوی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے چنانچہ انہیں سزائے موت نہیں دی جانی چاہیے۔
کلینیکل سوشل ورکر جین ووگل سینگ نے جیوری کو بتایا کہ وہ اس نتیجے پر زکریا کے رشتہ داروں سے انٹرویو کرنے کے بعد پہنچی ہیں اور زکریا سے بات کرنے کا انہیں اب بھی موقع نہیں دیا گیا۔
عدالت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جیوری کو بتایا گیا کہ زکریا موساوی نے لندن میں اپنے زمانہِ طالبعلمی میں ہی ریڈیکل اسلام میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔
اب جیوری کے ارکان نے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا زکریا موساوی کو سزائے موت دی جائے یا انہیں عمر قید کی سزا سنائی جائے۔
زکریا موساوی وہ واحد ملزم ہیں جن پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے سلسلے میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہیں گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں کوئی افسوس نہیں ہے۔