Monday, 17 April, 2006, 02:23 GMT 07:23 PST
امریکہ میں سینیٹروں نے کہا ہے بش انتظامیہ کو ایران سے جوہری پروگرام پر براہِ راست بات چیت کرنی چاہیے۔
ایران کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے یہ مطالبات ایران کے جوہری بحران کا حل سلامتی کونسل کے ذریعے تلاش کرنے کی امریکی پالیسی کے خلاف ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ ایران کو بین الاقوامی سسٹم کے احترام پر مجبور کرنے کے لیئے سلامتی کونسل کو تمام ممکنہ راستوں پر غور کرنا ہو گا۔
سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین اور برسراقتدار ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رچرڈ لُگر نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی امریکی کوششیں قبل از وقت ہیں۔
مسٹر رچرڈ لُگر نے کہا کہ ایرانی عوام کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور امریکہ کو اس معاملے پر ایران سے بات چیت کرنی چاہیے۔
سینیئر ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹوفر ڈو نے بھی رچرڈ لُگر کے موقف کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کو ایران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرنی چاہیے۔ ’اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم ایران سے اتفاق کرتے ہیں۔ تاہم یہ ایک آپشص ضرور ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اِسی ماہ کے اواخر میں ہونے والے اپنے اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام پر غور کرنے والی ہے۔
سلامتی کونسل کی طرف سے تیس روز کے اندر حساس جوہری پروگرام کو معطل کرنے کی ہدایت کے باوجود ایران نے گزشتہ ہفتے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ یورینیئم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔