Sunday, 16 April, 2006, 12:18 GMT 17:18 PST
سولہویں پوپ بینڈکٹ نے اپیل کی ہے کہ ایران کے جوہری بحران کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔
روم کے سینٹ پیٹر سکوائر میں ایسٹر کے سالانہ روایتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ سنجیدہ اور پُر خلوص بات چیت کے ذریعے ایک ایسا حل نکالا جا سکتا ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو‘۔
انہوں نے عراق میں امن کے قیام، سوڈان کے خطے دارفر میں لوگوں کے مصائب کے خاتمے اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ’بات چیت کا راستہ‘ کھلا رکھنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی اپیل بھی کی۔
پوپ منتخب ہونے کے بعد پوپ بینڈکٹ کا ایسٹر کے موقع پر یہ پہلا پیغام ہے اور اسے پچاس ملکوں میں براہِ راست نشر کیا گیا ہے۔
سنیچر کو پوپ بینڈکٹ نے بیسلیکا میں بحیثیت پوپ ایسٹر کی پہلی عبادت کرائی۔ اس موقع پر ہزارہا زائرین نے پوپ کو واحد شمع جلاتے ہوئے دیکھا اور عبادت کی۔
بعد میں اس شمع کی لو سے اجتماع میں موجود زائرین کی ہزارہا شمعوں کو جلایا جاتا ہے۔
پانچ صدی قبل اسی ماہ میں بیسلیکا کی تعمیر شروع کی گئی تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ پہلے پوپ سینٹ پیٹر لی تدفین بھی یہیں ہوئی تھی۔
دریں اثنا ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے متنبہ کیا ہے کہ ان کے ملک ایران پر حملے سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا بلکہ اس سے پورے خطے کو نقصان پہنچے گا۔
شام کے دورے کے دوران انہوں نے ایک بار پھر اس پر اصرار کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام پُر امن ہے اور اس سے پورے خطے کو فوائد حاصل ہوں گے۔