Friday, 14 April, 2006, 11:11 GMT 16:11 PST
عراق کی حکومت نے کہا ہے کہ حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے 65 ہزار عراقی اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کر گئے ہیں۔
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ بے گھر ہونے والی عراقیوں کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
عراق کی وزارت برائے ڈسپلیسمنٹ اینڈ مائیگریشن یا بےگھروں اور امورِمہاجرین کی وزارت کی جانب سے بی بی سی کو دیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد گزشتہ دو ہفتے کے دوران دگنی ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ سے ملحقہ تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن برائےمائیگریش نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فروری میں ایک شعیہ مزار پر حملے کے بعد شروع ہونے والے تشدد کے بعد تینتیس ہزار عراقی اپنا گھر باہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ نقل مکانی عراقی دارالحکومت بغداد سے ہوئی ہے جہاں شیعہ اور سنی اکھٹے رہتے ہیں۔
عراقی ریڈ کراس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ دس ہزار ایسے لوگوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے جو تشدد کی وجہ اپنے گھر بار چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
ریڈ کراس کے مطابق اگر تشدد کی لہر جاری رہی تو نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
لوگوں کو کہنا ہے کہ انہیں موبائل فون پر ’ٹیکسٹ میسیج‘ کے ذریعے دھمکیاں دی جاتی ہیں جن کے ساتھ موبائل فونوں کے ذریعے بنائی جانے والی ہولناک فلموں کی ویڈیو بھی ہوتی ہیں۔