Thursday, 13 April, 2006, 23:59 GMT 04:59 PST
نیپال کے بادشاہ شاہ گیانندرا نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ ملک میں انتخابات کے انعقاد میں ان کی مدد کریں۔
شاہ گیانندرا نےچود ہ ماہ پہلے منتخب حکومت کو برطرف کرکے اقتدار کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔
ٹیلیوژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے شاہ گیانندرا نےکہا کہ وہ اگلے سال انتخاب کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن انہو ں نے انتخابات کوئی تاریخ نہیں بتائی۔ چودہ ماہ پہلے اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد بھی شاہ گیانندرا نے کہا تھا کہ وہ فوراً انتخاب کرایں گے لیکن بعد میں انہوں نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا۔
نامہ نگاروں کا کہنا کہ نیپال کی سیاسی جماعتیں شاہ گیانندرا کی پہلے بھی ایسی اپیلیں مسترد کر چکے ہیں اور توقع یہی ہے کہ وہ اس دفعہ بھی ایسا ہی کریں گے۔
انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر لوئیس آربر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شاہ گیانندرا کو ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کی کوشش کرنی چاہیے۔
اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شاید نیپال کا مسئلہ بھی بالاخر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پاس پہنچ جائے گا۔
یاد رہے کہ نیپال میں شاہ گیانندرا کے خلاف احتجاجی تحریک زوروں پر ہے اور اب تک چار مظاہرین بھی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔