Thursday, 13 April, 2006, 10:10 GMT 15:10 PST
نیپال میں پولیس نے شاہ گینندرا کے خلاف احتجاج کرنے والے وکیلوں کے ایک گروہ کو گولیوں کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں تین وکیل زخمی ہو گئے ہیں۔
زخمیوں میں سے ایک کے سر پر زخم آیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پولیس نے مظاہرہ کرنے والوں میں سے پچاس کو گرفتار بھی کیا ہے۔
ملک بھر میں شاہ گینندرا کے خلاف احتجاجی مظاہوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے تشدد سے چار مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ دوہزار پانچ میں شاہ گینندرا نے منتخب حکومت کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔
پولیس پرمظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے۔
شہر میں احتجاجی جلوسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کے خلاف تقریبًا دو سو وکیلوں نے کھٹمنڈو میں شاہ کے خلاف نکالے گئے احتجاجی جلوس میں حصہ لیا۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں برسائیں، ان پر آنسو گیس کے گولے پھینکے اور انہیں ڈنڈوں سے مارا پیٹا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے نیپال بار ایسوسی ایشن کے صدر سمبھو تھاپا اور دوسرے وکیلوں کو بہت بری طرح سے مارا۔
شاہ مخالف کارروائیوں کو بنیاد بناتے ہوئے پولیس گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہزاروں وکیلوں، صحافیوں اور دوسرے افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔
شاہ گینندرا جو تفریحی مقام پوکھرا میں تھے اب واپس کھٹمنڈو پہنچ چکے ہیں۔
ان احتجاجی مظاہروں پر شاہ کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم جمعہ کو شاہ خطاب کرنے والے ہیں۔