http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 10 April, 2006, 00:23 GMT 05:23 PST

نیپال: کرفیو برقرار مگر ہڑتال جاری

نیپالی حکومت نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جاری پرتشدد مظاہرے روکنے کے لیئے لگاتار تیسرے دن بھی کرفیو کا نفاذ برقرار رکھا ہے۔

ریڈیو نیپال کے مطابق پیر کو کھٹمنڈو میں دن گیارہ بجے سے شام چھ بجے تک کا کرفیو لگایا گیا ہے جو کہ گزشتہ دو دن کی نسبت کم دورانیہ ہے۔

نیپال میں دو روز سے جاری پر تشدد جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور احتجاج کو سول نافرمانی میں بدل دیا گیا ہے۔

نیپال میں پرتشدد مظاہرے: تصاویر

مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں جاری

کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نمائندےچارلس ہاویلینڈ کا کہنا ہے کہ کرفیو کے اوقات میں کمی کے اعلان میں تاخیر سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت مظاہروں کے معاملے میں پریشان ہے۔ تاہم یہ بھی لگتا ہے کہ حکومت مظاہرین کے اشتعال کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ماؤ نواز باغیوں اور اپوزیشن نے بھی کہا ہے کہ وہ شاہ گیانندرہ کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کی حمایت کو وسیع کر رہے ہیں۔

ایک ای میل پیغام میں ماؤ رہنماؤں نے کہا ہے کہ’ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم عام ہڑتال میں شامل ہیں‘۔ باغیوں نے کہا ہے کہ وہ تمام سڑکوں کا انتظام سنبھال لیں گے اور تمام شاہی مجسمے توڑ دیں گے۔ پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’شاہی حکومت‘ کے نام والے تمام بورڈ بھی ہٹا دیئے جائیں گے اور حکومت کو ٹیکس دینے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔

نیپال میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی شاہ گیانندرہ کے خلاف چار روزہ احتجاجی ہڑتال کو غیر معینہ ملک گیر ہڑتال میں تبدیل کر دیا ہے۔

احتجاجی ہڑتالوں پر قابو پانے کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو میں سنیچر سے دن کا کرفیو لگایا گیا تھا جس میں اتوار کو توسیع کر دی گئی تھی لیکن اتوار کو کھٹمنڈو اور دوسرے کئی شہروں کے علاوہ دیہی علاقے میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے اور کرفیو کی خلاف ورزی کی گئی۔

اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت دیگر شہروں میں کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔