Monday, 10 April, 2006, 09:51 GMT 14:51 PST
فرانس کے صدر ژاک شیراک نے نوجوانوں کی ملازمتوں کے بارے میں اس متنازعہ قانون کو منسوخ کر دیا ہے جس کے خلاف گزشتہ ہفتے فرانس میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیئے گئے تھے۔
کابینہ کے ارکان سے ملاقات کے بعد صدر ژاک شیراک نے ایک بیان میں کہا کہ ایک ہفتے قبل بنائے گئے اس قانون کو منسوخ کیا جا رہا ہے اور کی جگہ ایسے اقدامات لیئے جائیں گے جن سے پسے ہوئے طبعقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو روز گار کے مواقعے مہیا ہو سکیں۔
اس سے قبل وزیر اعظم ڈومنک ذی ولیپان نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ نوجوان میں بڑہتی ہوئی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے لیئے گئے اقدامات کو صحیح طریقے سے سمجھا نہیں جا سکا۔
حکومت کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے والے نوجوانوں اور مزدور تنظیموں نے صدر شیراک کے اعلان کو اپنی فتح قرار دیا ہے۔
مسنوخ کیئے جانے والے قانون کے تحت آجر کسی چھبیس سالہ نوجوان کو ملازمت دیئے جانے کے دو سال کے اندر کوئی وجہ بتائے بغیر نوکری سے برخواست کرنے کا حق رکھتا تھا۔